پیر,  27 جولائی 2026ء
اوکے چاچا، تھینک یو انکل، ٹھیک ہے بابا جی
عنوان ہے، زندگی کا خوف

 تحریر: سید شہریار احمد

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

او کے چاچا، تھینک یو انکل ،

ٹھیک ہے بابا جی ۔

آج میں آپ سے اپنی معاشرتی، سماجی اور سیاسی، امن و امان اور ملکی تجارتی خسارے سے ہٹ کر بات کروں گا اور یہ ایک ایسا خسارہ ہے جو مجھے ان سب سے بڑا محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم لوگ من حیث القوم ،سائنسی، تجارتی، معاشی! سیاسی، اخلاقی! ہر لحاظ سے دنیا بھر سے مات کھا چکے ہیں جبکہ لفاظی اور جملوں کے چناو کی طرف یار لوگوں کا ابھی تک دھیان نہیں گیا۔

ہم لوگ لفاظی کی ترقی معکوس کے باعث گہرے گڑھے میں گر چکے ہیں۔میری مراد یہ ہے کہ جب ہم کسی سے گفتگو کرتے ہیں یا کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں ، جب کسی سے لین دین کا معاملہ کرتے ہیں یا جب ہم ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں تو وہی وہ ایسے لمحات اور ایسا وقت ہوتا ہے جب ہم کسی کو عزت دے سکتے ہیں،

اس کے چہرے پہ خوشی لا سکتے ہیں

یا پھر اس کے برعکس، ہم سارے دن کے لیے اسکی اداسی کی وجہ بن سکتے ہیں۔

ہمیں گفتگو کے دوران الفاظ کے چناؤ کی کمی اور لاعلمی کے سبب بہت ساری جگہوں پر ناگواری اور موڈ کی خرابی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر ہم کسی شاپ پہ چلے جائیں اور اس سے بھاو تاو کر لیں تو ایک دم اس کے چہرے کے تاثرات اور لفظوں کی ادائیگی تبدیل ہو جائے گی جس سے گاہک کے ذہن اور اس کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ گاہک آپ سے جس طرح کی بھی بات کرے کہا جاتا ہے کہ کا گاہک از آلویز رائٹ ۔

پھر اکثر اوقات ہم بحث و مباحثے کے دوران کچھ ایسے الفاظ ادا کر لیتے ہیں جس سے ہماری وہ ملاقات تو بس آخری ثابت ہوتی ہے اور اس کے بعد ہم ایک دوسرے سے دل میں کھجاؤ لیے جدا ہوتے ہیں اور دوبارہ پھر اسی خوف کے سبب مل نہیں پاتے کہ ویسی ہی صورتحال پھر نہ ہو جائے جیسے کہ پچھلی ملاقات میں ہوئی تھی۔

ہم لوگ کسی کو سمجھانے بیٹھے ہیں تو اسی کو قصوروار ثابت کرتے ہیں، جس سے اس شخص کو اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انہیں بہتر کرنے میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔

اگر کوئی شخص میری غلطی کی نشاندہی کرنا چاہے اور براہ راست مجھے قصوروار ٹھہرا دے تو اس کا مجھ پر منفی اثر ہوتا ہے جب کہ اگر وہی بات شائستہ اور بالواسطہ انداز اور مناسب الفاظ سے سمجھائی جائے تو انسان سمجھ لیتا ہے اور اپنی اصلاح بھی کر لیتا ہے۔

ایسی بہت سی باتیں اور بہت سے معاملات ہیں جن میں اگر ہم اپنے الفاظ کا چناؤ مناسب کر لیں تو ہماری زندگی میں بہت تبدیلی آ سکتی ہیں، تعلقات میں بہتری بھی پیدا ہو سکتی ہے اور اگر مجھے لفاظی کے حوالے سے ، انداز گفتگو کے حوالے سے کوئی اصلاحات کرنے کا موقع ملے تو میں سب سے پہلے اردو ڈکشنری سے چاچا جی، بابا جی اور انکل کے الفاظ فوری طور پر حذف کر دوں گا

کیونکہ مجھے ہر روز جن جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جو میری روح بر گراں گزرتے ہیں اور بہت دیر تک میری طبیعت بھاری رہتی ہے وہ یہی ہیں ،

جی چاچا جی،

ٹھیک ہے انکل ،

بابا جی،

آپ سوچ نہیں سکتے کہ یہ الفاظ سن کر ایک انسان کے دل پر کیا گزرتی ہے؟

گزشتہ دنوں میں تندور پہ روٹیاں لینے گیا تو سفید داڑھی میں ملبوس نان بائی بولا ،چاچا جی کتنی روٹیاں نان چاہیں؟

میں سٹپٹا گیا ،

میں نے اس سے پوچھا تمہاری عمر کتنی ہے،

کہنے لگا 54 سال۔

میں نے اسے بتایا کہ میں 56 برس کا ہوں۔

تم سے صرف دو سال بڑا ہوں تو میں کہاں سے تمہارا چچا لگتا ہوں؟

آگے سے مجھ سے بحث کرنے لگا ،کہنے لگا کہ میں نے تو عزت دی ہے آپ کو،

اس میں کون سی گالی ہے۔

میں پھر چڑھ گیا اس پہ ،

میں نے کہا تم مجھے سر بول دو،

بھائی جان بول دو،

چلو کچھ بھی نہ کہو، میرے نام سے شہریار صاحب کہ دو۔

ہمارا دو سال کا فرق ہے اور پھر تم مجھ سے زیادہ بوڑھے دکھتے ہو اور تم مجھے کہہ رہے ہو چاچا جی۔

میں روٹیاں لئے بغیر ہی وہاں سے چل پڑا ۔

اور اگر کوئی پڑھا لکھا شخص ہو تو ہمیں جھٹ سے انکل بول دیتا ہے۔ اپنی عمر نہیں دیکھتا، بھئی کم سے کم 20 سال کا فرق ہو تو تم مجھے انکل بول دو تو چلو چلے گا، میرے ہم عمر بھی مجھے اسی طرح مخاطب کریں تو بہت ناگوار گزرتا ہے۔

مجھے ہر روز دو ایک بار ایسے صدمات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔

کیا کروں ؟

طبیعت اس طرف مائل نہیں ہوتی کہ میں اپنے آپ کو بزرگ شہری تصور کرنے لگوں۔

پچھلے ماہ میں بینک کی لائن میں کھڑا تھا تو شیشے کے اس پار دوسری طرف جو لڑکی بیٹھی تھی اس نے مجھے آنکھوں کے اشارے سے اپنی طرف بلا لیا،

میں خوش ہوا کہ شاید وہ مجھے پروٹوکول دے رہی ہے، میری پرسنلٹی سے متاثر ہوئی ہے ، وہ اکیلی فارغ بیٹھی تھی تو اس نے کہا چلیں مجھے پہلے فارغ کر دے یا پھر وہ مجھے پہچان گئی ہے کہ میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو پہ کام کرتا ہوں۔

ذہن میں ان خیالات کے ساتھ دو قدم بڑھا کر میں جیسے ہی اس کے کاؤنٹر کے سامنے آیا تو اس پہ لکھا تھا

سینئر سٹیزن

میرے تو دھوئیں نکل گئے کہ اس لڑکی نے مجھے نوجوانوں کی لائن سے اس لیے بلایا ہے کہ میں اس کو بوڑھا لگتا ہوں۔

اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اسے کہنا بڑا

کہ میں ابھی اتنا بوڑھا نہیں ہوں، میرے تو بال نزلہ زکام سے سفید ہو گئے ہیں، جس پر ہم دونوں ہنس پڑے

اور اب یہ خواتین جو ساری زندگی، صدیوں سے یہ واویلا کر رہی ہیں کہ نو ماہ پیٹ میں بچے کو رکھ کر اسے جننا بہت تکلیف تکلیف دہ عمل ہے اور کوئی مرد ایسا کام کر کے دکھائے تو میں آج انہی کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ جب کسی مرد کو،

کوئی چاچا جی،

کوئی انکل ،

یا بابا جی کہہ کر پکارے تو وہ آپ کے درد زہ سے زیادہ بڑا درد ہے ۔

جوانی میں ،میں بڑھاپے کو آئیڈیالائز کیا کرتا تھا ،میں سوچتا تھا میرا بڑھاپا ایسا ہوگا،

ایسے گرے ہیئر ہوں گے،

اچھی پرسنلٹی ہوگی اور میں کبھی فکر مند نہ تھا لیکن ایک سہانی صبح اچانک جب میں نے دیکھا کہ میری کنپٹیوں کے بال سفید ہو گئے ہیں اور سینے میں بھی چار پانچ سفیدی ہوے بال باہر جھانک رہے ہیں تو ہاتھوں کے طوطے اڑنے والی مثال اس دن مجھے سمجھ آئی تھی۔

اب جب جوانی کی بات ہوئی ہے تو آخر میں جوانی کا ایک چھوٹا سا واقعہ بتاتا چلوں۔

میں لگ بھگ 25 سال کا تھا، ایک مارکیٹ میں کھڑا تھا، دو خوبصورت نوجوان کالج کی بچیاں جو کہ لگ بھگ 17/ 18 سال کی ہوں گی میرے پاس آئیں اور چیرٹی کے لیے ٹکٹ بیچنا چاہا ،

میں بہت خوش ہو گیا کہ چلو ٹھیک ہے ٹکٹ بھی لے لوں گا اور ان کے ساتھ لائن بھی بن جائے گی ۔

میں نے ان سے دو ٹکٹ خرید لیے وہ خوش ہو گئیں اور جاتے ہوئے انہوں نے مجھے کہا

تھینک یو انکل۔

25 سال کی عمر میں تھینک یو انکل سننے کے بعد،

میں کتنی راتیں جاگا ہوں گا آپ اس کا بخوبی تصور کر سکتے ہیں😢😢😢

مزید خبریں