مستونگ (روشن پاکستان نیوز) بی ایل اے دہشت گردوں نے کوریئر کمپنی کے 2 ملازمین کو اغوا کرلیا اور ڈھائی کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے کھڈ کوچہ میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بے ایل اے ) دہشت گردی ہی نہیں اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں بھی ملوث نکلی۔
بی ایل اے کے دہشت گردوں نے کوریئر کمپنی کے دو ملازمین کو اغوا کر لیا، یہ واقعہ 24 جولائی 2026 کو پیش آیا، جہاں کالعدم بی ایل اے کے مسلح دہشت گردوں نے کھڈ کوچہ کے مقام پر کوریئر کمپنی کی گاڑی کو روکا اور گاڑی سمیت دو شہریوں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
دہشت گردوں نے کوریئر کمپنی کے مالک سے رابطہ کیا اور مغویوں کی رہائی کے بدلے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔
دہشت گردوں نے دھمکی دی ہے کہ تاوان کی عدم ادائیگی کی صورت میں مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت سب کی نانی ’’را‘‘ ہے: سرفراز بگٹی
رپورٹس کے مطابق کالعدم بی ایل اے کی کارروائیاں اب صرف مبینہ نظریاتی یا دہشت گردانہ حملوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ تنظیم اب باقاعدہ ایک مجرمانہ گینگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں بینک ڈکیتیوں اور بھتہ خوری کی وارداتیں ، شاہراہوں پر گاڑیاں چھیننا اور مسافروں کو لوٹنا اور معصوم شہریوں کا اغوا برائے تاوان شامل ہیں۔
اس سنگین صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نےنجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ بلوچستان میں دہشت گرد سرِعام گاڑیوں کو روک کر لوٹ مار کرتے ہیں۔
انہوں نے صوبے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدقسمتی سے یہ تاثر قائم ہو رہا ہے کہ جو بھتہ دے دیتا ہے، اسے کچھ نہیں کہا جاتا، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔











