پیر,  27 جولائی 2026ء
ڈیجیٹل میڈیا کی دولت، نوجوانوں کے خواب اور معاشرتی اقدار پر نئی بحث

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا انفلوئنسرز، یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی آمدنی ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں یوٹیوبر رجب بٹ کے ایک بیان، جس میں انہوں نے اپنی مالی کامیابی کا ذکر کیا، کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اور تبصرے سامنے آئے۔ بعض افراد نے ڈیجیٹل میڈیا سے حاصل ہونے والی دولت کو مواقع کی علامت قرار دیا، جبکہ کچھ نے اس رجحان کو معاشرتی ترجیحات اور نوجوانوں کے مستقبل کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مسائل، مہنگائی اور محدود مواقع کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں جب کچھ سوشل میڈیا شخصیات کم وقت میں نمایاں شہرت اور مالی کامیابی حاصل کرتی نظر آتی ہیں، تو عوامی سطح پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ معاشرے میں کامیابی کے پیمانے کس سمت جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات محنت، تعلیم اور ہنر کے بجائے فوری شہرت کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔

اداکارہ مومنہ اقبال کے خلاف بیان دینے پر سوشل میڈیا صارفین نے علامہ ناصر مدنی کو آڑے ہاتھوں لے لیا

دوسری جانب ڈیجیٹل میڈیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے روزگار کے نئے راستے پیدا کیے ہیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان اپنی صلاحیتوں، تخلیقی کام اور کاروباری آئیڈیاز کو دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کامیاب کریئیٹرز بھی ایک طرح کے کاروباری افراد ہیں جو مواد سازی، مارکیٹنگ، برانڈ پارٹنرشپس اور آن لائن بزنس کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

تاہم ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بعض اوقات ایسا مواد زیادہ مقبول ہو جاتا ہے جو تفریح کے نام پر سنجیدہ صحافتی، اخلاقی اور معاشرتی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر نوجوان صرف شہرت اور دولت کو کامیابی کا واحد راستہ سمجھنے لگیں تو تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔

 مسئلہ ڈیجیٹل میڈیا کی موجودگی نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریقہ ہے۔ ان کے خیال میں ذمہ دارانہ مواد سازی، ڈیجیٹل لٹریسی اور نوجوانوں کی تربیت وقت کی ضرورت ہے تاکہ سوشل میڈیا کو مثبت اظہار، تعلیم، کاروبار اور روزگار کے مواقع کے لیے استعمال کیا جا سکے۔  پاکستان جیسے ممالک میں جہاں نوجوان آبادی بڑی تعداد میں موجود ہے، وہاں ڈیجیٹل معیشت ایک اہم موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان صرف فوری شہرت کے بجائے مہارت، تعلیم اور مستقل محنت کو بھی کامیابی کا حصہ سمجھیں، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معیاری اور ذمہ دارانہ مواد کو فروغ دیا جائے۔

مزید خبریں