اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مصنوعی ذہانت (اے آئی) سرچنگ پر جاکر معلومات حاصل کرنا پر اور اس پر اندھا اعتماد کرنا نہایت خطرناک ہوسکتا ہے تاہم صارفین ضرور احتیاط برتیں۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سرچ ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق نے ان کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) بعض اوقات ریڈٹ پر کسی عام صارف کی پوسٹ کو بھی سرکاری ویب سائٹ جتنا معتبر سمجھ لیتی ہے اور اس کے اثرات آپ کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بعض اوقات اے آئی انٹرنیٹ پر موجود غیر مصدقہ یا طنزیہ مواد کو بھی حقیقت سمجھ کر صارفین کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔
اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک اے آئی سرچ انجن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتقال سے متعلق ایک مکمل طور پر غلط دعوے کو حقیقت کے طور پر پیش کر دیا۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ معلومات دراصل ریڈٹ پر شیئر کی گئی ایک طنزیہ پوسٹ سے اخذ کی گئی تھیں، جسے اے آئی نے اپنے طور پر قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھ لیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز اکثر معلومات اکٹھی کرتے وقت مختلف ویب سائٹس، فورمز اور صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پرتخلیق کردہ مواد پر انحصار کرلیتے ہیں۔
اگر کوئی غیر مصدقہ یا گمراہ کن پوسٹ بظاہر معتبر انداز میں لکھی گئی ہو تو اے آئی اسے بھی درست معلومات تصور کر سکتی ہے۔
اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملوں کا انتہائی سخت جواب دیا جائیگا: ٹرمپ نے خبردار کردیا
حالیہ تحقیق کے مطابق اے آئی کے جدید ریسرچ ایجنٹس اپنے تقریباً نصف جوابات کے لیے ریڈٹ، وکی پیڈیا اور دیگر صارفین کی جانب سے تیار کردہ ویب سائٹس سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات غلط یا جان بوجھ کر پھیلائی گئی معلومات بھی اے آئی کے جوابات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
محققین نے ایک تجربے میں یہ بھی ثابت کیا کہ انٹرنیٹ کے ایک عام سے فورم پر صرف چند الفاظ پر مشتمل ایک مختصر تبصرہ بھی اے آئی کی سفارشات کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں اے آئی نے ایک عام مقام کو بہترین انتخاب کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اس دعوے کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں تھی۔
آنسر انجن آپٹیمائزیشن کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اب بعض کمپنیاں اور برانڈز بھی انٹرنیٹ فورمز اور تبصروں میں مخصوص مواد شائع کر کے اے آئی کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس رجحان کو آنسر انجن آپٹیمائزیشن (اے ای او) کا نام دیا جا رہا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ صارفین کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ اے آئی کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر فوری یقین کرنے کے بجائے ان کی آزاد ذرائع سے از خود تصدیق ضرور کریں، خاص طور پر ایسے معاملات جو صحت، مالیات، سیاست یا دیگر اہم شعبوں سے متعلق ہوں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی فراہم کردہ معلومات کی مستند اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق کرنا غلط فہمیوں اور گمراہ کن معلومات سے بچنے کا مؤثر اور بہترین طریقہ ہے۔











