کرنیلیاں
ارے بھائی یہ اے آئی ہے!!!
`نام نہاد اے آئی ماہرین کے بارے میں ایک شگفتہ تحریر`
ایک عہد تھا جب کسی خبر کی تردید کے جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی سمجھا جاتا تھا کہ یہ محض پروپیگنڈے کا جال ہے اور کچھ نہیں۔ وہ پرنٹ میڈیا کا دورِ زریں تھا جب سنسنی خیز اور مسالے دار خبریں صرف اخبارات و رسائل ہی کی زینت بنتی تھیں، خاص طور پر شام کے پرچوں میں۔ انہی اخبارات اور ضمائم کی وہ شہ سرخیاں دیکھ کر ٹریفک سگنل پر کھڑا موٹر کار سوار تجسّس کے غلبے میں اخبار خرید لیتا، پھر مطالعے کے بعد پتہ چلتا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ درحقیقت یہ اخبار فروشی کی ایک مدبرانہ حکمتِ عملی تھی کہ شہ سرخی کو ایسا مسالا لگا دو کہ ایک سطر پڑھنے والا پورا پرچہ ہی خریدنے پر مجبور ہو جائے۔
پھر الیکٹرونک میڈیا کا دور آیا تو وہی پرانا چورن اب “بریکنگ نیوز” کے نام سے پیش کیا جانے لگا۔ بعض اینکر پرسن اپنے پروگراموں میں ایسا مسالا لگا دیتے کہ ناظرین “ڈراپ سین” کے منتظر رہتے، مگر پروگرام اچانک ختم ہو جاتا، اشتہارات کی بھرمار ہوتی اور سرخیوں میں مزید مسالا جات ناظرین کے منتظر ہوتے۔
اب اس دورِ جدید، بلکہ یوں کہیے کہ سوشل میڈیا کے اس عہدِ طلائی میں اہلِ ذوق کو وی لاگ دیکھنے کا ایسا چسکا لگا ہے کہ گویا یہ کوئی نئی عبادت ہو۔ ویلاگر صاحبان کا طریقہ واردات دیکھنے کے قابل ہے۔ وہ پہلے ہی جملے میں، انتہائی متانت اور سنجیدگی کے ساتھ، یہ اعلان فرماتے ہیں کہ “ایک ایسی بڑی خبر ہے جو آپ کے ہوش و حواس اڑا دے گی” ۔ مگر اس کے فوراً بعد، بڑی نرمی اور حکمت کے ساتھ، یہ بھی فرما دیتے ہیں کہ “وہ خبر تو بعد میں سن لیجیے گا، پہلے ایک اور اہم بات سن لیجیے”۔ یوں آپ بیس پچیس منٹ تک اسی تجسّس کی آگ میں جلتے رہتے ہیں کہ آخر وہ کون سی خبر ہے جو اُن کے ہوش اڑا دے گی، اور اسی تجسّس ہی میں وہ پورا ویلاگ دیکھ ڈالتے ہیں۔ آخر میں جب وہ بڑی خبر کا راز کھولنے کا موقع آتا ہے تو ویلاگر صاحب بیل آئیکن دبانے کی نصیحت فرما کر، بڑی شان سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں۔ اور اسی لطیف تدبیر سے وہ ماہانہ ہزاروں ڈالر کی “برکتیں” سمیٹ رہے ہیں۔
لیکن ان بے بنیاد خبروں، ویڈیوز اور تصاویر کو ہر شخص تسلیم نہیں کرتا۔ ایسے کردار عام زندگی میں بھی ضرور ملتے ہیں۔ آپ کا بھی کوئی چچا، تایا، ماموں، پھوپھا، خالو، کزن، کلاس فیلو، کولیگ یا محلّے دار ایسا ضرور ہوگا جو ہر سننے والی بات کے جواب میں کچھ یوں کہتا ملے: “بکواس کر رہا ہے” ، “ابے، اس کی بات کا یقین مت کرنا، یہ ایک نمبر کا گپوڑو شخص ہے” ، “سراسر جھوٹ بول رہا ہے” ، “یار یہ ہو ہی نہیں سکتا، شو مار رہا ہے، ایسا کچھ بھی نہیں” اور اس قسم کے لاتعداد ملتے جلتے جملے۔
اب جب سے واٹس ایپ پر تصاویر، آڈیو پیغامات اور ویڈیوز کی آمد ہوئی تو ایسے افراد کو ایک نئی دستاویز ہاتھ آ گئی۔ پہلے وہ تصاویر دیکھ کر فوراً فتویٰ صادر کر دیتے: “بھائی یہ تو فوٹو شاپ کا کمال ہے، ورنہ یہ بندہ تو کبھی لالہ موسیٰ نہیں گیا تو ایفل ٹاور کے ساتھ تصویر کیسے لے سکتا ہے؟” یا “یہ بندہ اور ہانیہ عامر کے ساتھ تصویر؟ ناممکن، بہت ہی گھٹیا فوٹو شاپ ہے، خود ہی غور کرو۔”
لیکن فوٹو شاپ کے بعد اب ڈیپ فیک اور اے آئی کا دور ہے۔ ہمارے ایک کولیگ اپنے آپ کو ڈیپ فیک اور اے آئی کے ماہرِ کامل سمجھتے ہیں۔ اِدھر واٹس ایپ پر آپ نے کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو شیئر کی، اُدھر وہ محض پانچ سیکنڈ میں ہی اذن جاری کر دیتے ہیں: “ارے بھائی یہ اے آئی ہے!” تمام گروپ ممبران ان کے اے آئی کے فتووں سے تنگ آ کر گروپ میں تصاویر و ویڈیوز بھیجنا ہی بند کر بیٹھے۔ ایسے میں ہمارے ایک سیانے دوست کو بڑی دور کی سوجھی۔ انہوں نے بڑی مشکل سے، جیسے تیسے کر کے، پچیس سال پرانی ایک نایاب ویڈیو حاصل کی اور اس کا ایک مختصر سا کلپ گروپ میں شیئر کر دیا۔ پھر وہی ہوا جس کا سب کو انتظار تھا۔ ماہرِ اے آئی صاحب کا فتویٰ پانچ سیکنڈ کے اندر اندر موصول ہو گیا: “بھائی یہ اے آئی ہے!” جس پر ہمارے سیانے دوست نے پھبتی کسی: “ہاں یار واقعی یہ تو اے آئی ہی ہے، ورنہ ایسی سمجھ دار خاتون تیرے جیسے سے شادی کی ہاں کیسے کر سکتی ہے؟” یہ سننا تھا کہ ماہرِ اے آئی نے ویڈیو پر غور کیا تو وہ انہی کی شادی کی ویڈیو کا کلپ تھا۔ اس واقعے کے بعد سے وہ اصلی اے آئی ویڈیوز پر بھی تبصرے سے گریز ہی کرتے ہیں۔۔۔
کیا آپ بھی کسی ایسے ماہرِ اے آئی کے فتووں سے تنگ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کسی بھی طرح ان کی شادی کی وڈیو حاصل کر لیں، ان شاءاللہ افاقہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ کرنل ابرار خان، ریٹائرڈ
کراچی
29 جولائی 2026











