جمعرات,  30 جولائی 2026ء
فارم 47 کی حکومت ، یہ کون کہ رہا ہے ؟
فارم 47 کی حکومت ، یہ کون کہ رہا ہے ؟

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے 2024 کے عام انتخابات میں بالترتیب 75 اور 54 نشستیں حاصل کی تھیں ۔ اس وقت تحریک انصاف نے ان انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے اور وہ اب تک موجودہ مرکزی حکومت کو فارم 47 کی حکومت کہتی ہے ۔ انتخابات میں چونکہ کسی بھی سیاسی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی لہذا مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اتحاد کر لیا اور حکومت بنا لی ۔

ایک زمانہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے لیے آگ اور پانی کی حیثیت رکھتے تھے لیکن 2024 کے انتخابات کے بعد دونوں اقتدار کے لیے متحد ہو گئے یا کر دیے گئے کیونکہ نا تو یہ دونوں پارٹیاں اور نا ہی ایسٹبلشمنٹ یہ چاہتی تھی کہ تحریک انصاف دوبارہ اقدار حاصل کرے اسی لیے تحریک انصاف کی تنقید کا نشانہ یہ دونوں پارٹیاں ہیں اور وہ اس حکومت کو طنزیہ طور پر فارم 47 کی حکومت کہتی ہے ۔اسی طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی اپنے سیاسی مخالفین کا متحد ہو کر مقابلہ کرتے آئے ہیں لیکن پہلے گلگت بلتستان اور اب آذاد کشمیر کے عام انتخابات نے ان دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کر دیا ہے ۔
گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے لیڈروں نے ایک دوسرے کو لتاڑا مگر جب نتائج آئے اور پیپلز پارٹی جیت گئی تو مسلم لیگ ن نے خوش دلی سے نتائج کو قبول کر لیا اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شمولیت بھی اختیار کرلی مگر اب جب کہ آذاد کشمیر میں انتخابی عمل شروع ہوگیا ہے اور پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن نے اکثریت حاصل کر لی ہے تو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آپے سے باہر ہوگئے ہیں اور انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر مسلم لیگ ن پر سخت قسم کی تنقید شروع کر دی ہے ۔ دوسری طرف جوابی کاروائی کے طور پر مسلم لیگ ن کی لیڈر اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے بھی پیپلز پارٹی کے خلاف انتہائی سخت لہجہ اختیار کر رکھا ہے ۔

اور اب تو بلاول بھٹو نے موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دے کر تحریک انصاف کے اس الزام کو تقویت دینے کی کوشش کی ہے کہ پچھلے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی تو اب اگر بلاول بھٹو زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور یہ حکومت فارم 47 کی حکومت ہے تو پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کو کندھا کیوں دے رکھا ہے اور اسی دھاندلی زدہ پارلیمینٹ نے بلاول کے والد کو صدر مملکت کیوں منتخب کیا ہے ؟ اسکا تو مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ صدر بھی فارم 47 کی پیداوار ہے ۔

اگر بلاول بھٹو زرداری کے یہ الزامات ان کے خیال میں درست ہیں تو پیپلز پارٹی کو اخلاقی طور پر فوری طور پر مسلم لیگ ن کا ساتھ چھوڑ کر اسمبلیوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ لیکن حالت یہ ہے کہ کشمیر میں تو دونوں پارٹیوں کے لیڈران ایک دوسرے پر سخت قسم کے الزامات لگا رہے ہیں لیکن پاکستان میں دونوں خاموش ہیں اور اقتدار کے مزے لے رہے ہیں ۔ ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ اخلاقی اقدار سے بہت دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور جوش خطابت میں ایسی باتیں کہ جاتے ہیں کہ پھر ان کے ہی گلے وہ باتیں پڑ جاتی ہیں مگر جب ان میں شرم و حیا نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں تو انہیں کیا پرواہ ۔
یہ لوگ اسی طرح کی نورا کشتی لڑتے رہینگے لیکن جب تک ان کو ایک دوسرے سے الگ ہونے کا اشارہ نہیں ملتا یہ لاکھ چاہیں تو بھی اپنا اتحاد توڑ نہیں سکتے ۔

آذاد کشمیر کے عام انتخابات میں یہ دونوں سیاسی پارٹیاں بھارت اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کو ہم پر ہنسنے کے مواقع فراہم کر رہی ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم آذاد کشمیر میں تو مسلم لیگ ن اور پیپلز ایک دوسرے کو نشانہ نا بنائیں ۔

تحریر: داؤد درانی

مزید خبریں