جمعه,  31 جولائی 2026ء
سوشل میڈیا پر مخالف پوسٹس پر سربراہ میٹا انڈیا سمیت متعدد افراد کیخلاف مقدمات درج

نیودہلی(روشن پاکستان نیوز) بھارتی شہر حیدر آباد کی سائبر کرائم پولیس نے طلبہ کے حالیہ احتجاج کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق توہین آمیز ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے کے الزام میں میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس سمیت متعدد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج کر لیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقدمات 2 شکایت گزاروں ایس اراوند ریڈی اور ٹی سائی کرن گوڑ کی درخواست پر درج کیے گئے ہیں۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ انسٹاگرام پر بھارتی وزیرِ اعظم مودی کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جا رہی تھیں جن کے ساتھ توہین آمیز اور نازیبا تبصرے بھی کیے گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ مواد عوام کو گمراہ کرنے، غلط معلومات پھیلانے، نفرت اور بدامنی کو ہوا دینے، عوامی شخصیات کی ساکھ متاثر کرنے اور امن و امان خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ سی جے پی کے زیرِ انتظام طلبہ کے احتجاج کے دوران شیئر کی گئی متعدد پوسٹس اور تبصروں پر بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں جن میں نازیبا زبان استعمال کی گئی۔

دوسری جانب چند روز قبل بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سرکاری اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کو فیس بک پر عارضی طور پر بلاک کیے جانے پر حکومت نے میٹا سے وضاحت طلب کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے میٹا انڈیا کے سربراہ ارون سرینواس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

مودی سرکار کے تمام ہتھکنڈے ناکام، فلم ’ستلج‘ کی اصل کہانی جو بھارتی مظالم کا عالمی اشتہار بن گئی

دوسری جانب میٹا نے بھارتی حکومت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وزیرِ اعظم مودی کے اکاؤنٹ سے متعلق مواد کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی اور آئندہ ایسے معاملات میں صرف کمپنی کے سینئر عہدیدار فیصلہ کریں گے اور ہر فیصلے کا کم از کم 2 اعلیٰ حکام جائزہ لیں گے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ میٹا کی ٹیم رواں ہفتے حکومت سے ملاقات بھی کرے گی جس میں مواد کی نگرانی سمیت دیگر اہم امور پر تبادلۂ خیال ہو گا۔

ادھر دہلی پولیس بھی 20 جولائی کے ’سنسد چلو‘ مارچ سے منسلک تشدد اور جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کے دوران وزیرِ اعظم مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز پوسٹس اور ویڈیوز ہٹانے کے لیے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کر چکی ہے جبکہ بعض نیوز پورٹلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی نوٹسز بھجوائے گئے ہیں۔

مزید خبریں