اسلام آباد(سعدعباسی ) حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کی رہنما مشعال حسین ملک نے آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے موجودہ بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی ہی اس مسئلے کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے ریاستِ پاکستان اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔
اپنے ایک ہنگامی اور جذباتی بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ کشمیر کی دھرتی پر ہونے والا تشدد اور خونریزی ہمارے دل و جان کو چھلنی کر رہا ہےانہوں نے سیاسی قیادت کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دان سنگ دل ہو چکے ہیں اور عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان عوام کے ساتھ کیڑے مکوڑوں جیسا سلوک کر رہے ہیں اور انسانی لاشوں پر سیاست چمکائی جا رہی ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
مشعال ملک نے آزاد کشمیر کے عوام کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عوام ریاستِ پاکستان کے خلاف ہرگز نہیں ہیں۔ ان کا احتجاج کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے لیے ہے۔ عوام محض صاف پانی، بہتر سڑکیں، ہسپتالوں میں ایم آر آئی (MRI) اور ڈائلیسز کی مشینیں اور مناسب طبی سہولیات چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کائنات میں انسانی جان سب سے قیمتی ہے اور اسے کسی بھی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
پاکستان اور کشمیر کی بیٹی، کشمیر کی بہو اور حریت کے عظیم رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ کی حیثیت سے انہوں نے ریاستِ پاکستان، عسکری قیادت اور خاص طور پر فیلڈ مارشل سے فوری اور سنجیدہ مداخلت کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دیا کہ مقتدر حلقے اس بحران کو پرامن حل کی طرف لے جانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
مشعال ملک نے آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانی تارکینِ وطن (اوورسیز) سے بھی پرزور اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ڈیڈ لاک (تعطل) کو توڑا جائے۔ انہوں نے تمام طبقات کو دعوت دی کہ وہ امن کی بحالی کے لیے ایک “انسانی زنجیر” (Human Chain) بنائیں اور اس امن پسند جدوجہد میں ان کا بھرپور ساتھ دیں۔











