اسلام اباد (روشن پاکستان نیوز)کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر و پاکستان کے زیرِ اہتمام آج نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، گھروں پر چھاپوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کی، جبکہ حریت رہنماؤں، سیاسی و سماجی شخصیات اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم، غیر قانونی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ن رے درج تھے۔ شرکاء نے عالمی برادری سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر کی نئی لہر شروع کر رکھی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ساڑھے تین ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں اور شہریوں کو بلاجواز گرفتار کر کے تشدد، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جو انسانی حقوق کے عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت، جبر اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو ہرگز شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف پسند ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، غیر قانونی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ دیگر مقررین محمود احمد ساغر اور شمیم شال اپنے خطابات میں کہا کہ بھارت کشمیری عوام کی جائز اور پرامن تحریکِ آزادی کو طاقت کے زور پر دبانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، مگر ظلم و جبر سے آزادی کی تحریکیں ختم نہیں ہوتیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے، بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بند کرائے اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی فوری رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔احتجاج کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی، اسیرانِ حریت کی رہائی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔











