لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسل انتخابات نے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں کر دیے ہیں۔ ابتدائی نتائج کے مطابق حکمران لیبر پارٹی کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ ریفارم یو کے نے مختلف علاقوں میں حیران کن کامیابیاں حاصل کر کے اپنی سیاسی قوت کا بھرپور اظہار کیا ہے۔
وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی جماعت کو خاص طور پر شمالی انگلینڈ کے ان علاقوں میں دھچکا لگا ہے جو ماضی میں لیبر کے مضبوط گڑھ تصور کیے جاتے تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق لیبر کو ایک ہزار سے زائد کونسل نشستیں کھونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا، اور ابتدائی نتائج اسی سمت اشارہ دے رہے ہیں۔
ریفارم یو کے نے نیو کاسل انڈر لائم کونسل کا کنٹرول لیبر سے چھین کر اپنی پہلی بڑی کامیابی حاصل کی۔ پارٹی کے سربراہ نائجل فراج نے ان نتائج کو “برطانوی سیاست میں تاریخی تبدیلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت روایتی لیبر علاقوں میں غیرمعمولی ووٹ حاصل کر رہی ہے۔
ہارٹل پول میں ریفارم یو کے نے تمام 12 نشستیں جیت کر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔ اگرچہ کونسل میں مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوئی، تاہم آزاد امیدواروں کی حمایت سے پارٹی کے اقتدار میں آنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب لیبر کے مقامی رہنما اور کارکن نتائج پر شدید مایوسی کا شکار دکھائی دیے۔
ہارٹل پول سے لیبر رکنِ پارلیمنٹ جوناتھن بریش نے نتائج کے بعد وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مقامی نمائندوں نے بھرپور محنت کی، مگر عوامی ردِعمل پارٹی کی مرکزی قیادت کے خلاف سامنے آیا۔
سابق شیڈو چانسلر جان میکڈونل نے بھی عندیہ دیا کہ اگر نتائج مزید خراب رہے تو لیبر میں قیادت کی تبدیلی پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایسا عمل منظم انداز میں ہونا چاہیے۔
دوسری جانب لبرل ڈیموکریٹس اور گرین پارٹی نے بھی کئی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ لبرل ڈیموکریٹس نے اسٹاک پورٹ اور پورٹس ماؤتھ کونسلوں کا کنٹرول حاصل کر لیا، جبکہ گرین پارٹی نے آکسفورڈ سمیت مختلف علاقوں میں اپنی نشستوں میں اضافہ کیا۔
چیشائر کے علاقے ہالٹن میں ریفارم یو کے نے 15 نشستیں جیت کر بڑی کامیابی حاصل کی، جبکہ ویگن اور چورلے سمیت کئی علاقوں میں بھی لیبر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ویگن میں لیبر نے 20 نشستیں کھو دیں، تاہم کونسل پر اس کا کنٹرول برقرار ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی سیاست اب روایتی دو جماعتی نظام سے نکل کر زیادہ تقسیم شدہ شکل اختیار کر رہی ہے، اور آنے والے عام انتخابات میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔











