منگل,  20 اکتوبر 2026ء
 اسلام آباد: شاہ اللہ دتہ میں سی ڈی اے کی 898 کنال اراضی پر قبضے کا انکشاف

نیب کی نشاندہی پر سی ڈی اے کا نوٹس، ذمہ دار ریونیو افسران کا تعین اور سرکاری زمین واگزار کرانے کی ہدایت

اسلام آباد (راجہ اسرار): وفاقی دارالحکومت کے علاقے شاہ اللہ دتہ میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی 898 کنال قیمتی سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی نشاندہی کے بعد سی ڈی اے حکام نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ محمد زمان وٹو نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو قبضے کی صورت حال کا جائزہ لینے، ذمہ دار افسران کا تعین کرنے اور سرکاری اراضی واگزار کرانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

سی ڈی اے کے سرکاری مراسلے نمبر 8622، مورخہ 15 اکتوبر 2026 کے مطابق موضع شاہ اللہ دتہ میں لینڈ فل سائٹ کے لیے حاصل کی گئی 898 کنال اراضی پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے۔ نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے 8 اکتوبر کو خط کے ذریعے اس معاملے کی نشاندہی کی تھی۔

ممبر اسٹیٹ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ زمین پر قبضے کی موجودہ صورت حال سے متعلق فوری طور پر تازہ ترین رپورٹ پیش کی جائے۔ اس کے علاوہ ان ریونیو افسران کی نشاندہی بھی کی جائے جن کی مبینہ غفلت کے باعث سرکاری اراضی پر قبضہ ہوا، تاکہ ذمہ داری کا تعین کرکے کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

حکام کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ سی ڈی اے کے تمام متعلقہ ونگز کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے اراضی کو فوری طور پر واگزار کرایا جائے اور مستقبل میں اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ اراضی کی مالیت اربوں روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ معاملے میں سی ڈی اے کے متعلقہ ریونیو عملے کی ممکنہ ملی بھگت کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے کسی افسر کی ذمہ داری تاحال ثابت نہیں ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب اور سی ڈی اے کی جانب سے معاملے کا جائزہ لیے جانے کے بعد ذمہ داران کے خلاف مزید کارروائی متوقع ہے۔ سرکاری اراضی پر قبضے اور متعلقہ اہلکاروں کے کردار سے متعلق حتمی صورت حال تحقیقات کے بعد واضح ہوگی۔

 

مزید خبریں