پیر,  19 اکتوبر 2026ء
وفاقی آئینی عدالت نے بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پشاور کی اپیل مسترد کردی، خاتون ٹیچر کے حق میں فیصلہ برقرار

اسلام آباد(محب ) وفاقی آئینی عدالت نے بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی پشاور کی جانب سے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے حق میں پہلے سے جاری فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے یونیورسٹی کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ خاتون ٹیچر نے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد تین سال تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دیں، لیکن معاہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی انہیں تنگ کیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی کے وکیل رحمان اللہ نے عدالت کو بتایا کہ خاتون ٹیچر کو حکومت کی جانب سے پی ایچ ڈی کے لیے 56 لاکھ روپے کی اسکالرشپ دی گئی تھی اور انہیں اسکالرشپ کی شرائط کے مطابق تین سال تک یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا تھیں۔ وکیل کے مطابق خاتون ٹیچر ان تین سالوں کے دوران 196 دن رخصت پر رہیں۔

اس پر جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ یونیورسٹی نے خاتون ٹیچر کی رخصت کی درخواستیں خود منظور کی تھیں، لہٰذا اب ان منظور شدہ چھٹیوں کو کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر رخصت کی منظوری میں کوئی بے ضابطگی تھی تو متعلقہ درخواستیں منظور کرنے والے افسر کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

جسٹس حسن رضوی نے مزید استفسار کیا کہ خاتون ٹیچر نے استعفیٰ کیوں دیا اور جب اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست خالی ہوئی تو انہیں منتخب کرنے کے بجائے باہر سے امیدوار کیوں لایا گیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب سرکاری رقم خرچ کرکے خاتون ٹیچر کو پی ایچ ڈی کروائی گئی تو پھر اسسٹنٹ پروفیسر کی نشست پر کسی دوسرے شخص کو تعینات کرنے کی کیا وجہ تھی۔

عدالت نے یونیورسٹی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے خاتون ٹیچر سیدہ لیلیٰ کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید خبریں