پیر,  19 اکتوبر 2026ء
برطانیہ میں ’خان‘ خاندانی نام کی مقبولیت میں اضافہ، ’اسمتھ‘ کی برتری کو چیلنج

لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں صدیوں سے مقبول خاندانی نام ’اسمتھ‘  کی برتری کو اب ’خان‘  سے مقابلے کا سامنا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں نومولود بچوں کے خاندانی ناموں کے حوالے سے خان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے ملک میں بدلتے ہوئے آبادیاتی رجحانات سے جوڑا جا رہا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 4,102 نومولود بچوں کا خاندانی نام اسمتھ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خان نام رکھنے والے بچوں کی تعداد 3,772 رہی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسمتھ نام کی تعداد میں سالانہ تقریباً 4 فیصد کمی آ رہی ہے، جبکہ خان نام کی مقبولیت میں 1.9 فیصد سالانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ان رجحانات کی بنیاد پر تجزیے میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مستقبل میں خان، اسمتھ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

خاندانی ناموں کے ساتھ بچوں کے پہلے ناموں میں بھی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ محمد برطانیہ کے مختلف علاقوں، بالخصوص لندن، میں نومولود لڑکوں کے مقبول ناموں میں شامل ہے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی اس نام کی مقبولیت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے این آر کے نے 2014 میں رپورٹ کیا تھا کہ محمد اوسلو میں سب سے عام نام بن چکا تھا۔

برطانیہ میں نسل پرستی کا تنازع: ریفارم یو کے کی خفیہ تحقیقات میں پاکستانیوں اور مسلمانوں سے متعلق متنازع بیانات

ماہرین کے مطابق ناموں کے رجحانات میں تبدیلی کسی معاشرے کی آبادی، ہجرت اور ثقافتی تنوع سے جڑی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ میں جنوبی ایشیائی برادریوں کی موجودگی اور نئی نسلوں کی پیدائش بھی ان رجحانات پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم، خان کے مستقبل میں برطانیہ کا سب سے مقبول خاندانی نام بننے کے دعوے کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے ایک پیش گوئی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس کے لیے اعداد و شمار کے اصل ماخذ، طریقۂ شمار اور آئندہ برسوں کے رجحانات کی مزید تصدیق ضروری ہے۔

مزید خبریں