جمعه,  18  ستمبر 2026ء
سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا وکیل پر اظہارِ برہمی

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)سپریم کورٹ میں ایک وکیل کی جانب سے وفاقی آئینی عدالت میں مقدمہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ میں پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے برہمی کا اظہار کیا۔

وکیل محمد عمر اعجاز گیلانی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے تیسرے نمبر پر مقرر تھا۔ تاہم وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کا وفاقی آئینی عدالت میں دسواں اور بارہواں مقدمہ بھی مقرر ہے، اس لیے وہ سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوسکتے۔

وکیل کی درخواست پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود سینئر وکیل اور بار رہنما چوہدری محمد احسن بھون کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے احسن بھون اور سینیٹر فاروق حمید نائیک سے کہا کہ بار تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ اگر کسی وکیل کا مقدمہ پہلے سپریم کورٹ میں مقرر ہو تو اسے یہاں پیش ہونے کے بعد آئینی عدالت جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزائیں معطل، ضمانت پر رہائی کا حکم

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کسی کے خلاف حکم جاری نہیں کرتی، تاہم ایک ہی وقت میں مختلف عدالتوں میں مقدمات کی ترجیح کے حوالے سے ایسا تاثر پیدا ہونا مناسب نہیں۔

بعد ازاں عدالت نے وکیل کی جانب سے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت سوموار تک ملتوی کردی۔

مزید خبریں