جمعه,  18  ستمبر 2026ء
انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے خلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ نے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے

لاہور(روشن پاکستان نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف معین الدین ریاض قریشی کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر درخواست گزار کے وکیل سے دلائل طلب کر لیے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ بادی النظر میں یہ بل کس طرح غیر آئینی ہے اور درخواست کس بنیاد پر قابل سماعت ہے۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں دلائل پیش کرنے کے لیے پانچ منٹ دیے جائیں تاکہ وہ عدالت کی معاونت کر سکیں۔

جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے دلائل دیے جائیں۔

درخواست میں پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والی ترمیم کو آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ترمیم کے ذریعے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں نئی دفعہ 21AAA شامل کی گئی ہے، جس کے تحت بعض مقدمات کو ’’خصوصی سکیورٹی کیس‘‘ قرار دے کر جج، پراسیکیوٹرز، دفاعی وکلا اور گواہوں کی شناخت خفیہ رکھی جا سکتی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئی شق بنیادی حقوق، منصفانہ ٹرائل اور عدالتی اختیار سے متعلق آئینی تقاضوں سے متصادم ہے، جبکہ عدالت سے نئی شق کو کالعدم قرار دینے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک اس کے نفاذ کو معطل کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

مزید خبریں