لاہور(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا میں اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کے ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف لاہور میں “مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ: مڈل پاورز اینڈ دی میکنگ آف اے نیو ریجنل سکیورٹی آرکیٹیکچر” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے کہا کہ لاہور نے 1974ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی تھی، جس نے مسلم یکجہتی کی بنیاد مضبوط کی، جبکہ 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں اسی یکجہتی کو ایک تزویراتی ڈھانچہ فراہم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب خلیج کا اہم مرکز، ترکیہ مختلف خطوں کو ملانے والی طاقت جبکہ پاکستان ایک اہم تزویراتی سمت کو جوڑنے والا ملک ہے۔ ان تینوں ممالک کا باہمی تعاون خطے میں طاقت کے توازن کی ایک نئی مثلث اور علاقائی سکیورٹی کی نئی جہت تشکیل دے سکتا ہے۔
سحر کامران کا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور
سحر کامران کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تعاون میں کسی درخواست گزار کے طور پر نہیں بلکہ ایک باوقار شراکت دار کی حیثیت سے شامل ہے۔ مشترکہ دفاع اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کا مقصد جارحیت یا کسی جارحانہ اتحاد کا قیام نہیں بلکہ باہمی تحفظ اور اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعاون خطے کی درمیانی طاقتوں (Middle Powers) کے درمیان ایک ایسے نیٹ ورک کی تشکیل کی جانب پیش رفت ہے جو علاقائی استحکام اور اجتماعی سلامتی میں مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
سحر کامران نے مزید کہا کہ مسلم اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور وہ وقت اب آچکا ہے۔











