دوحرف/رشید ملک
اس شہر رنگین مزاج شناس کو جب کچھ مردم بے زار احباب شہر کوفہ کہتے ہیں یقین مانیں دل کے چرکے اس کا منہ نقاب سمیت نوچنے کیلئے بھڑکاتے ہیں، مگر کیا کریں یارانہ اور مجبوریاں آڑے آجاتی ہیں۔پیر مہر علی شاہ صاحب اور سرکار بری امام سائیں کی دھرتی کو کوفہ صفت قرار دینا نہ صرف زیادتی ہے بلکہ میرے نزدیک تو گناہ کبیرہ ہے۔ کم و بیش 35 سال دارالحکومت اسلام آباد کی منظر بینی اور خاک چھنائی کے بعد مجھے تو اس اقتدار پرست شہر میں فائدہ ہی فائدہ میسر آیا حسن پرست دوست ملے جہاں اپنے رشتوں کا کھوٹ جاننے کا موقع ملا وہیں پیار شفقت اور خلوص بھرے دوست بھی میسر آئے وقت کی رفتار بھلے تیز گام ہے مگر احباب کا پیار ٹھہر ا ہوا،خلوص جامد اور چاہت ساکت ہاتھ باندھے کسی مجاور کی طرح کھڑی ہے۔ ایوان سرکار و عنان سے آراستہ شہر اسلام آباد میں قدم رکھا تو صحافت کا شعبہ اختیار کرنے کا ارادہ کیا ابھی خبر اخبار کے میدان میں اترنے کیلئے جب پہلے زینے پر قدم رکھا تو میرا پہلا واسطہ برادر سہیل اکبر چوہدری ایڈووکیٹ سابق سیکریٹری اسلام آباد ہائی کورٹ بار سے پڑا وہ وکالت کے بے لگام منہ زور گھوڑے کی طنابیں کھینچ چکے تھے اور قانون کے بر بے قرار میں قانون کے گھوڑے کی پیٹھ کو ٹھونک کر ایڑھ لگانے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے شکر ہے کہ پھر انہوں نے اپنا ارادہ بدلا نہیں بلکہ پختہ رکھا اور آج سپریم کورٹ،اسلام آباد ہائیکورٹ سے لیکر ڈسٹرکٹ بار کے ہر یدھ یعنی نیتا گیری یعنی انتخابی اعمال و اسرا رموز جوڑ توڑ سمیت ہر کار زار میں برابر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ دبنگ اور شان سے کرتے ہیں۔ برادرم سہیل چوہدری ایک کٹر جاٹ طبعیت کا مالک ہس مکھ اور مزاجا” یار باش شخصیت ہیں۔ واسطہ یوں پڑا کہ وہ اسلام آباد اسلامی یونیورسٹی میں قانون کے گھوڑے کی طنابین تھام چکے اور بندہ ناچیز صحافت کی بھول بھلیوں میں اتر چکا تھا کہ ان نئی مہموں سے نبرد آزما ہونے کے بعد غالباً ہم پہلی بار اپنےاپنے آبائی شہروں کو ایک ہی بس میں ایک ہی سیٹ پر رخت سفر باندھے ہوئے تھے اور اسی طویل سفر کی تھکن سے نجات کیلئے باہم ہم کلام ہوئے تھے۔ وہ دن اور آج کا دن سہیل چوہدری سے جب جب ملنے کا موقع بنا وہی خندہ پیشانی جاٹ لہجہ خلوص برادرانہ سے بھرے بھرے جام، یوں جاری گردش ایام۔صحافت شروع کی تو کرائم رپورٹنگ کی بیٹ کا قرعہ میرے نام نکال دیا گیا، اس کے علاوہ پارلیمنٹ،پیپلز پارٹی،وزارت مواصلات، وزارت آئی ٹی ٹیلی کام کا ہما بھی مجھ ناچیز کے سر بھیٹھ گیا۔ کرائم کی بیٹ کسی بھی میڈیا ادارے میں مشکل اور تھکا دینے والی ذمہ داری ہے، اس کی دلچسپیاں ، رازداریاں اور یاریاں بھی گہری اور گوڑھی ہوتی ہیں، اسی بیٹ کی بناء پر ہاؤسنگ کی صنعت کے سلطان ریاض ملک،سے لیکر ملک باری جیسے یار باش دبنگ طبعیت کے حامل شخص اور جڑواں شہروں میں طاقتور شخصیت تاجی کھوکھر جیسے کرداروں کے ساتھ بھی شناسائی ہوئی مگر کرائم رپورٹنگ نے کورٹ کچہری میں خوبصورت لب و لہجے اور معطر خلوص سے بھرے ہوئے نامور وکلا سے بھی راہ رسم استوار کر دیئے۔ یہیں پر برادرم سابق سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار و سیکرٹری ہائی کورٹ بار ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد سے بھی ملاقات ہوئی اور انہیں کے توسط سے بہترین وکیل اور منجھے خوبصورت انسان ایڈووکیٹ نوید ملک جو بعد میں سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار بھی بنے اور آج کل ایڈووکیٹ جنرل ہیں سے بھی دوستی ہوئی جو بھر پور طور قائم و دائم ہے یہاں اگر میں برادرم ایڈووکیٹ چوہدری اشرف اور عزیز مہربان دوست سید واجد گیلانی اور ہدلعزیز بھائیوں کی طرح پیار کرنے والےاسلام آباد بار کے سابق صدر قبلہ سید طیب شاہ صاحب جن سے دوستی سے بڑھ کر بھائیوجیسا رشتہ استوار ہوا، بہت سارے اور احباب قانون داں بھی دامن میں جگہ دیئے ہوئے ہیں۔ نفس مضمون کو سمیٹنے کی غرض سے اگلے کالم میں کھل کر تذکرہ کیا جائے گا۔ آج بھائی نوید ملک ایڈووکیٹ جنرل کے بارے دو جملے زنجیر تحریر کے سپرد کردوں امید و یقین کامل ہے کہ کوئی تعزیر دفعہ یا حد لاگو نہیں کی جائے گی۔ عدل انصاف کے بلند و بالا ایوانوں مین دستار قانون کے پیچ و خم سنوارتے میری نوید ملک صاحب سے کچہری میں بہت ملاقاتیں رہیں بلکہ جب وہ ڈسٹرکٹ بار سیکرٹری بنے تو ان کا پہلا انترویو کرنے ان کے چیمبر گیا وکلا مسائل پر بات ہوئی پھٹے سے لیکر لاء چیمبر کے وجود کے بخیے اور سہرے ادھیڑے اور لگائے گئے مگر مجال ہے تلخ بات پر بھی نوید ملک کی پیشانی پر کوئی بل ایا ہو اور پیشانی پر کوئی شکن نمو دار ہوئی ہو۔ گفتار میں ملامت وقار میں استقامت مسکراہٹوں میں شگفتگی و لطافت کے ساتھ ساتھ ایک الگ ہی خوشبو اور شائستگی کا امتزاج تھا جو آج بھی قائم ہے۔میرے جیسے اوسط درجے کے رپورٹر،لکھاری، شاعر نما شخص کی فیس بک پوسٹ پر اپنے مزاج کا اظہار باقاعدگی سے کرتے ہیں جس نے مجھے ان کی محبت کی چادر میں دامن گیر کر رکھا ہے بلکہ سچ کہوں تو مجھے قرض دار بنا رکھا ہے۔ برادرم نوید ملک کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے۔ اللہ نے ان کی حلیمی کے مرہون انہیں ایڈووکیٹ جنرل کے منصب سے سرشار کیا ہے. دعا ہے کہ پروردگار مزید کامرانیوں سے نوازے۔یہ سطور ان کیلئے خصوصاً کچھ روز قبل ایک دوست کی کال کے بعد زیر ترتیب رکھی گئیں جب کال کرنے والے دوست کی کسی بات پر میری اس سے تکرار ہوگئی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے دو حرف لکھنے کا ارادہ کیا تو عنوان کیلیے دو رنگی دنیا کا انتخاب کیا۔ اختلاف رائے ہونا چاہئے مگر اسے کردار کوشی کا ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے۔ احترام اور ابہام میں فرق ہے اور رہے گا۔ سمجھنے کی ضرورت ہمیں ہے۔ کیونکہ دو رنگی دنیا اور۔۔۔۔۔! اور ۔۔۔اور بہت سے رنگ۔











