سرینگر(روشن پاکستان نیوز) نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے کشمیری رہنما یاسین ملک نے سرینگر کی ایک عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں اپنے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے اور عدالت سے سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (SIA) نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق مقدمے میں یاسین ملک کو مبینہ طور پر مرکزی کردار قرار دیا۔
یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کے ذمہ دار نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ عدالت سے سزائے موت کی درخواست کو جرم کا اعتراف یا استغاثہ کے الزامات تسلیم کرنے کے طور پر نہ لیا جائے۔
حلف نامے کو ’آخری بیان‘ قرار دیا
یاسین ملک نے حلف نامے کو اپنا آخری بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات پر غور اور استخارے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مقدمے میں مزید دفاع نہیں کریں گے۔
حلف نامے کے مطابق، تحقیقاتی حکام نے جون 2026 میں تہاڑ جیل میں ان سے ایک مبینہ ہاتھ سے لکھے گئے نوٹ اور سرلا بھٹ کے قتل سے متعلق الزامات پر پوچھ گچھ بھی کی تھی۔
یاسین ملک نے اپنے مؤقف کی تائید میں 1990 میں پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق 8 اپریل 1990 کو ایک عمارت سے گرنے کے باعث انہیں شدید چوٹیں آئیں اور وہ طویل عرصے تک زیرِ علاج رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں 19 اپریل کو قتل کا حکم دینے کا الزام قابلِ سوال ہے۔
انہوں نے 1992 میں ہونے والی اوپن ہارٹ سرجری اور اس کے بعد پیدا ہونے والے طبی مسائل کا بھی ذکر کیا ہے۔
واجپئی حکومت سے رابطوں کا ذکر
حلف نامے کا ایک نمایاں حصہ یاسین ملک کے سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کے ساتھ مبینہ رابطوں سے متعلق ہے۔
یاسین ملک کے مطابق 2000 میں جیل سے رہائی کے بعد بھارتی حکومت نے ان کے ساتھ مذاکراتی رابطے شروع کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران انہوں نے موجودہ بھارتی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول، شیامل دتہ اور سابق قومی سلامتی مشیر برجیش مشرا سمیت بعض اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے امریکہ میں اپنے علاج کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ واجپئی حکومت نے ان کے طبی اخراجات کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کی تھی، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
مشال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا اعلان
حلف نامے کے آخری حصے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی سے مناسب رابطہ نہیں کر سکے اور انہیں فون یا ویڈیو کال کی سہولت بھی حاصل نہیں۔ یاسین ملک نے اپنی اہلیہ کے لیے جذباتی پیغام میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ مشال ملک ان کی وجہ سے اپنی پوری زندگی مشکلات میں گزاریں۔
اسی تناظر میں انہوں نے مشال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا فیصلہ ظاہر کیا اور انہیں زندگی کا نیا باب شروع کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے بھی نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار کیا۔
یاسین ملک کا سیاسی پس منظر
یاسین ملک کا شمار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے نمایاں رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں کشمیر کی سیاسی و مزاحمتی تحریک میں نمایاں ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے مسلح جدوجہد سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سیاسی اور سفارتی ذرائع پر زور دیا۔
وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں کشمیری قیادت کی شمولیت کے حامی رہے اور سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سمیت بھارتی قیادت سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔
یاسین ملک اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کے تازہ حلف نامے میں کیے گئے دعوؤں اور الزامات پر بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا











