اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے سنو ٹی وی سے 170 کارکنوں کی مبینہ جبری برطرفیوں اور سماء ٹی وی میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کے نام پر ملازمین کی ممکنہ چھانٹیوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا ہے کہ سنو ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے 170 ملازمین کو ایک ساتھ فارغ کرنا “معاشی قتل” کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں برطرفیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اقدام کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ غیر منصفانہ طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطرف کیے گئے ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور انہیں تین ماہ کی اضافی تنخواہ بھی دی جائے۔
افضل بٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ملازمین کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ سنو ٹی وی کے پروگراموں میں شرکت سے قبل ملازمین کی بحالی کو شرط کے طور پر سامنے رکھیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
میڈیا شدید بحران کا شکار، نظام سے فائدہ چند ہزار افراد کو ہو رہا ہے، افضل بٹ
دوسری جانب پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے سماء ٹی وی انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کے ذریعے ملازمین کے انٹرویوز لے کر بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کارکنوں کے معاشی مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
پی ایف یو جے نے سماء انتظامیہ کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی برطرفیوں سے باز رہے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاج اور ٹی وی دفاتر کے گھیراؤ سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
یونین نے واضح کیا ہے کہ میڈیا ورکرز کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی غیر منصفانہ اقدام کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔











