پشاور(روشن پاکستان نیوز)کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ راولپنڈی کی جانب سے منشیات فروشوں اور قبضہ گروپوں کی فہرست جاری ہونے کے بعد پشاور میں بھی ایسے عناصر کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیاں دوبارہ موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ شہری حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ کئی ایسے افراد، جن پر ماضی میں جرائم کے الزامات لگتے رہے، آج بااثر شخصیات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں لوگ اس تبدیلی پر حیران ہیں کہ معمولی جرائم میں ملوث سمجھے جانے والے بعض افراد اب بڑی گاڑیوں، پروٹوکول اور سیاسی روابط کے ساتھ نمایاں حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند برسوں میں بعض افراد کی مالی اور سیاسی طاقت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں صرف نچلے درجے تک محدود کیوں رہتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق اگر قانون کی حقیقی عملداری مقصود ہے تو کارروائی بلاامتیاز ہونی چاہیے اور بااثر شخصیات کو بھی احتساب کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔
حیدرآباد کنگز مین کو شکست دیکر پشاور زلمی پی ایس ایل کی فاتح بن گئی
شہر کے مختلف مقامات، خصوصاً چائے خانوں اور عوامی اجتماعات میں اس صورتحال پر تبصرے جاری ہیں۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی سرپرستی اور طاقتور روابط کی وجہ سے کچھ عناصر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ فہرستوں کے سامنے آنے کے بعد بعض مشتبہ افراد نے اپنی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں جبکہ سیاسی روابط مزید بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ شہری اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا قانون واقعی سب کے لیے یکساں ہوگا یا بااثر افراد ایک بار پھر احتساب سے محفوظ رہیں گے۔











