اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) حکومت عوام کے سامنے کرپشن کر کے ملک و قوم کو نقصان پہچانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کا عزم دہراتی رہتی ہے۔
تاہم ٹی اینڈ ٹی ہاﺅسنگ سوسائٹی میں ماضی میں بھاری سطح پر کی جانے والی کرپشن اور جاری مبینہ فراڈ کے خلاف نہ وزیر اعظم شہباز شریف نوٹس لے رہے ہیں اور نہ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائزعیسیٰ کو ئی نوٹس لے رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ایف آئی اے کے بعض افسران پہلے ہی ان فرڈایوں سے ملے ہوئے ہیں۔
سوسائٹی انتظامیہ کی جانب سے دیکھائے جانے والے سنہرے مگر حقیقت میں جھوٹے خوابوں میں آکر اپنی ساری عمر کی جمع و پونجی لگا کر پلاٹ خریدنے والی ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے بہت امید ہے تاہم اب یہ امید آہستہ آہستہ ختم ہونے کی طرف جار ہی ہے اورگزرتے وقت کے ساتھ بار باریہ سوال پیداہو رہا ہے ۔
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے بچے ان کے حق کے لئے ڈپٹی کمشنر آفس سمیت تمام متعلقہ اداروں سے رابطہ کر چکے ہیں تاہم درخواستیں کے وصول کرنے کے باوجود دباﺅ کے تحت ضلعی انتظامیہ اور ایف آئی اے ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی میں جاری کرپشن و گھپلوں پر کارروائی سے گریزاں ہے۔
کاغذی پلاٹوں کے عوض لوگوں سے اربوں روپے لوٹے جانے پر متاثرین سوسائٹی نے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کر کے ملک و قوم کو نقصان پہچانے والوں کے خلاف وزیراعظم اور چیف جسٹس نوٹس لیں۔
ٹی اینڈ ٹی ذرائع کے مطابق ہاﺅسنگ سوساٹی میں لاکھوں لوگوں سے فراڈ کرکے ارب پتی بننے والے اظہر بلوچ کے بیرون ملک اکاﺅنٹ میں تقریبا 80ارب سے زائد کی رقم اور اربوں کی پراپرٹی موجود ہے ۔واضح رہے کہ ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی کرپشن ،اظہر بلوچ کا داماد اوردیگر رشتہ دار بھی گھپلو ں میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے وفاقی انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)نے تمام ثبوت اکھٹے کر لئے ہیں۔
جبکہ اظہر بلوچ مختلف لوگوں کے ذریعے ایف آئی افسران کورشوت اور دباﺅ ڈالوا رہا ہے کہ اس کے خلاف اکھٹے کئے جانے والے ادارے کی فائلوں میں موجود شواہد کو غائب کردیں۔
ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی میں ہونے والے گھپلوں اور فراڈ کی رقم کو اظہر بلوچ نے رشتہ داروں کے اکاﺅنٹس میں رکھاہے۔ سوسائٹی کے کمرشل پلاٹس میں مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ فی مرلہ 1لاکھ 70ہزار ، رہائشی پلاٹس کا فی کینال 1لاکھ 20ہزار روپے کمیشن وصول کیاگیا۔
تاہم اظہربلوچ کی منی لانڈرنگ پرنیب،ایف آئی اے سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش ہیں ۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی رقم مختلف دیگر ذرائع کے علاوہ زمینوں کی خریدوفروخت میں فراڈاور گھپلوں سے کی جانے والی کرپشن سے اکھٹی کی گئی ۔
رقم سے اظہر بلوچ نے بیرون ملک جائیدادیں بنا رکھیں ہیں۔ذرائع کے مطابق پاکستان مخالف سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی رقم مختلف دیگر ذرائع کے علاوہ زمینوں کی خریدوفروخت میں فراڈاور گھپلوں سے کی جانے والی کرپشن سے اکھٹی کی گئی اور مختلف اوقات میں منی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان مخالف سرگرمیاں کرنے والے عناصر کو منتقل کی گئی۔
تاہم ایف آئی اے میںجاری کرپشن اور بیرون ملک جائیدادکی تحقیقات بھی روک دی گئی ہیں۔قانون نافذکرنے والے ادارے کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ دیگر ذریعوں کے علاوہ موضع ڈورہ اور نوگزی میں زمین کی خریدوفروخت میں گھپلے اور فراڈ کرکے بھی رقم حاصل کی گئی ہے۔
افسر کا مزید کہنا ہے کہ اس موضع میں زمین کی خرید کے لئے نیٹ ورک کے سرغنہ اظہر بلوچ اور اس کے داماد نے ایک سوسائٹی ٹی اینڈ ٹی کے اکاﺅنٹ سے 27لاکھ روپے کے حساب سے رقم نکالی اور زمین کی ادائیگی کے لئے 15سے 17لاکھ روپے کے حساب سے کی جو کہ مارکیٹ ریٹ سے بہت زیادہ تھا۔
مزید پڑھیں:ضلعی انتظامیہ اور ایف آئی اے ٹی اینڈ ٹی سوسائٹی میں جاری کرپشن وگھپلوں پر کارروائی سے گریزاں
انہوں نے مزید بتایا کہ سوسائٹی کے کمرشل پلاٹس کا فی مرلہ 1لاکھ 70ہزار روپے جبکہ رہائشی پلاٹس کا فی کینال 1لاکھ 20ہزار روپے کمیشن بھی وصول کیا گیا ۔اس مد میں وصول کیا جانے والا کمیشن نیٹ ورک کے سرغنہ اظہر بلوچ اور اس کے داماد کے علاوہ اظہر بلوچ کے دیگر رشتہ داروں بھانجوں اور بھتیجوں کے اکاﺅنٹس میں رکھا گیا
جبکہ 2013سے 2016،2017،2018،2019،2020،2021اور 2022کی فرانزک آڈٹ رپورٹس اور تحقیقات میں اس حوالے سے واضح ثبوت ملے ہیں کہ 24لاکھ اور 34لاکھ روپے کمیشن فی کینال وصول کیا گیا ہے۔











