بااثرشخصیت کی صاحبزادیوں کاڈیپارٹمنٹل سٹورکے ہیلپرپربدترین تشدد

لاہور(روشن پاکستان نیوز)لاہور میں با اثر شخصیت کی صاحبزادیوں نے مل کر ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرنے والے معصوم لڑکے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین لڑکیاں جو شاپنگ کر کے اپنا سامان کاؤنٹر پر رکھتی ہیں اور کاؤنٹر پر موجود کیشیئر بل بنانے لگ جاتا ہے۔

کیشیئر کے ساتھ موجود ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرنے والا ہیلپر لڑکا وہ سامان شاپر میں ڈالنے لگ جاتا ہے اور وہ لڑکیاں اپنے موبائل فون میں مصروف رہتی ہیں تاہم اس دوران اچانک تین لڑکیوں میں سے ایک لڑکی اس لڑکے کو ہراساں کرنے لگ جاتی ہے اور پھر تینوں لڑکیاں مل کر اس بے گناہ لڑکے پر بدترین تشدد کرتی ہیں۔

اس پر تھپڑوں کی بارش کرتی رہتی ہیں اس دوران دیگر شہری یہ دیکھتے رہتے ہیں تاہم کوئی بھی آگے آ کر سچائی بیان کرنے اور اس معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا۔

ویڈیو ڈیپارٹمنٹل سٹور کے سی سی ٹی وی سے ریکارڈ کی گئی ہے۔

لڑکیاں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کو کال کر کے اس لڑکے کو حوالات میں بھی بند کروا دیتی ہیں اور وہ لڑکا اب بھی حوالات میں ہے ۔

 

 

اس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے یہ کسی بڑے وکیل کی بیٹیاں ہیں جنہوں نے پنجاب حکومت کےہراسمنٹ قانون کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس لڑکے کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے پولیس کے حوالے بھی کر دیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اعلی حکام اس واقعہ کا فوری نوٹس لیں اور بے گناہ اور بے قصور لڑکے کو فوری طور پر رہا کر کے اس تمام معاملے کی صاف شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور جو بھی واقعہ میں ملوث ہو اس کو قانون کا مطابق سزا دی جائے۔

مزید خبریں