لاہور(روشن پاکستان نیوز)لاہور میں با اثر شخصیت کی صاحبزادیوں نے مل کر ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرنے والے معصوم لڑکے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین لڑکیاں جو شاپنگ کر کے اپنا سامان کاؤنٹر پر رکھتی ہیں اور کاؤنٹر پر موجود کیشیئر بل بنانے لگ جاتا ہے۔
کیشیئر کے ساتھ موجود ڈیپارٹمنٹل سٹور پر کام کرنے والا ہیلپر لڑکا وہ سامان شاپر میں ڈالنے لگ جاتا ہے اور وہ لڑکیاں اپنے موبائل فون میں مصروف رہتی ہیں تاہم اس دوران اچانک تین لڑکیوں میں سے ایک لڑکی اس لڑکے کو ہراساں کرنے لگ جاتی ہے اور پھر تینوں لڑکیاں مل کر اس بے گناہ لڑکے پر بدترین تشدد کرتی ہیں۔
اس پر تھپڑوں کی بارش کرتی رہتی ہیں اس دوران دیگر شہری یہ دیکھتے رہتے ہیں تاہم کوئی بھی آگے آ کر سچائی بیان کرنے اور اس معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتا۔
ویڈیو ڈیپارٹمنٹل سٹور کے سی سی ٹی وی سے ریکارڈ کی گئی ہے۔
لڑکیاں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کو کال کر کے اس لڑکے کو حوالات میں بھی بند کروا دیتی ہیں اور وہ لڑکا اب بھی حوالات میں ہے ۔
یہ کیا ہوا ہے یہاں؟ کس وکیل کی بیٹیاں ہیں ؟ یہ کیا بکواس ہے ؟ اس لڑکے کو مستقل زدو کوب کر رہی ہیں ؟ pic.twitter.com/vZZOWXRHjX
— Naureen Saleem Janjua (@NaureenJanjua) July 8, 2024
اس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے یہ کسی بڑے وکیل کی بیٹیاں ہیں جنہوں نے پنجاب حکومت کےہراسمنٹ قانون کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس لڑکے کو نہ صرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسے پولیس کے حوالے بھی کر دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اعلی حکام اس واقعہ کا فوری نوٹس لیں اور بے گناہ اور بے قصور لڑکے کو فوری طور پر رہا کر کے اس تمام معاملے کی صاف شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور جو بھی واقعہ میں ملوث ہو اس کو قانون کا مطابق سزا دی جائے۔











