منگل,  15  ستمبر 2026ء
شوگر انڈسٹری نے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا فیصلہ مسترد کردیا، حکومتی اعداد و شمار پر تحفظات

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوزٌشوگر انڈسٹری نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے دو لاکھ میٹرک ٹن فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے چینی کے ذخائر اور پیداوار سے متعلق شوگر ملوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو نظر انداز کیا، جبکہ صنعت کا مؤقف بھی مناسب طور پر نہیں سنا گیا۔

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ملک میں موجود فاضل چینی میں سے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ چینی کے موجودہ ذخائر اور ملکی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا، تاہم شوگر انڈسٹری نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی کامیابی ہے: چینی اخبار

ذرائع کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں چینی کی پیداوار، دستیاب ذخائر اور برآمد سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد شوگر انڈسٹری کے نمائندوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی جانب سے شوگر ملوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔

شوگر انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ چینی کے ذخائر اور ملکی طلب سے متعلق درست اعداد و شمار کو مدنظر رکھے بغیر برآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ صنعت اور صارفین دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ ملز مالکان نے مطالبہ کیا کہ چینی کی برآمد سے متعلق پالیسی مرتب کرتے وقت شوگر ملوں کے حقیقی اعداد و شمار اور صنعت کے مؤقف کو بھی شامل کیا جائے۔

شوگر انڈسٹری نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی برآمد سے قبل ملکی ضروریات، آئندہ سیزن کی پیداوار اور دستیاب ذخائر کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے، تاکہ مستقبل میں چینی کی قلت یا قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کے خدشات کو کم کیا جاسکے۔

مزید خبریں