پیر,  14  ستمبر 2026ء
معدنی لیزوں میں مبینہ بے ضابطگیاں، سابق افسران اور کمپنیوں کے روابط کی چھان بین کا مطالبہ

پشاور/چترال(روشن پاکستان نیوز) خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل اور معدنی لیزوں سے متعلق معاملات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں سابق سیکریٹری معدنیات حمید اللہ شاہ کے دور سے متعلق مختلف شکایات، احتجاج اور اعتراضات کے ساتھ ایبٹ آباد کے کاکول فاسفیٹ کیس میں قومی احتساب بیورو کی کارروائی نے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

نیب کی تحقیقات کے مطابق کاکول کے گوزارہ جنگلات میں مبینہ غیر قانونی فاسفیٹ کان کنی کے معاملے میں 2010 سے جولائی 2025 تک 141,869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالے جانے اور قومی خزانے کو 643.7 ملین روپے کے مبینہ نقصان کا ابتدائی تخمینہ سامنے آیا۔ بعد ازاں ریفرنس میں نقصان اور نکالی گئی معدنیات کے اعداد و شمار میں مزید اضافہ ہوا، جبکہ بعض سابق اعلیٰ سرکاری افسران کے نام بھی شامل کیے گئے۔ معاملہ اس وقت عدالتی کارروائی میں ہے، اس لیے نامزد افراد پر عائد الزامات کو حتمی جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب چترال میں مقامی افراد اور متاثرہ فریقین کی جانب سے احتجاج اور پریس کانفرنس کے دوران معدنی لیزوں کے طریقہ کار، مبینہ بے ضابطگیوں اور سرکاری وسائل سے متعلق معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی جانچ، لیزوں کے اجرا کے عمل کی چھان بین اور مبینہ مالی نقصان کا تعین کرنے پر زور دیا۔

چین نے امریکا کو نایاب معدنیات کی برآمد پر عائد پابندی ہٹا دی

سرکاری ریکارڈ کے مطابق حمید اللہ شاہ مارچ 2024 میں سیکریٹری مائنز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ خیبرپختونخوا کے عہدے پر تعینات تھے۔ اس دوران وزیراعلیٰ کی زیرصدارت معدنیات سے متعلق اجلاس میں معدنی لیزوں کے اجرا، نئی مائننگ پالیسی اور شعبے میں اصلاحات سمیت مختلف امور زیر بحث آئے تھے۔

مختلف حلقوں کی جانب سے فیصل میمن اور بعض معدنی کمپنیوں، خصوصاً ہندوکش نامی کمپنی کے حوالے سے بھی دعوے اور الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی حتمی تصدیق کے لیے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے کمپنی ریکارڈ، حصص داروں، ڈائریکٹرز، فارم 29، اصل ملکیتی ڈھانچے، مالیاتی ریکارڈ اور معدنی لیز کی متعلقہ فائلوں کا جائزہ ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی سابق سرکاری افسر کے براہ راست یا بالواسطہ مالی مفادات ایسی کمپنیوں سے ثابت ہوتے ہیں جو اسی محکمے کے لیزنگ فیصلوں سے مستفید ہوئیں تو معاملہ مفادات کے ٹکراؤ اور اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے تناظر میں بھی قابلِ تحقیقات ہوگا۔

اس تناظر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حمید اللہ شاہ کے دور میں کیے گئے اہم معدنی فیصلوں، بڑی لیزوں، متعلقہ کمپنیوں اور ان سے وابستہ افراد کے مالی و کاروباری روابط کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور اگر کسی بے ضابطگی کا ثبوت ملے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

مزید خبریں