پیر,  14  ستمبر 2026ء
سپریم کورٹ: بیوی کے قتل کے مجرم کی عمر قید برقرار رکھنے کا حکم، اپیل مسترد

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سپریم کورٹ نے بیوی کے قتل کے مجرم کی عمر قید برقرار رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے حبیب اللہ کی اپیل مسترد کردی اور 5 لاکھ روپے معاوضے کا حکم برقرار رکھا۔

عدالت عظمٰی نے کراچی میں اہلیہ کے قتل کے مجرم کی سزا برقرار رکھی۔  عدالت عظمٰی کے فیصلے مطابق مجرم 7 سال مفرور رہا، حالات پر مبنی شواہد کی کڑی مکمل قرار دی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔ 10صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ  عدالت عظمٰی کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے گھریلو قتل کی تحقیقات میں صنفی حساس طریقہ کار اپنانے پر زور دیا اور کہا ازدواجی گھر کی نجی حیثیت مجرموں کےلیے ڈھال نہیں بننی چاہیے۔

 عدالت عظمیٰ نے کہا گھریلو قتل مشکل ثبوت والا جرم ہے، بیوی کی غیر فطری موت پر شوہر کی وضاحت اہم ہوسکتی ہے، شوہر کی ناقابلِ قبول وضاحت حالات پر مبنی شواہد کی اہم کڑی بن سکتی ہے۔

 عدالت عظمیٰ نے کہا ملزم کےخلاف جرم کا خودکار مفروضہ قائم نہیں کیا جاسکتا، ملزم کے لیے بے گناہی کا مفروضہ اور قانونی تحفظات برقرار رہیں گے۔

سہیل آفریدی کی وزیراعلیٰ تقرری عدالت میں چیلنج، نوٹس جاری

عدالت عظمٰی نے کہا کہ ناقص تفتیش گھریلو قتل کے مقدمات میں انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے، خون آلود ہتھوڑا اور چادر برآمد ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیے گئے، شواہد پیش نہ کرنا پولیس کی سنگین غفلت ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ پولیس افسران کو صنفی اور پدر شاہی تعصبات کے خاتمے کی تربیت دی جائے، خواتین کے خلاف جرائم کی تفتیش میں صنفی حساس طریقہ کار اپنایا جائے، تفتیشی افسران کی غفلت پر احتساب ہونا چاہیے۔

 عدالت عظمیٰ نے کہا ہر گھریلو قتل کا منظم جائزہ لینے کے نظام پر غور کیا جائے، قتل کے بعد مقتولہ کے کردار پر حملہ پدر شاہی ذہنیت کی عکاسی ہے، خواتین کے تحفظ کے لیے تفتیش اور عدالتی کارروائی میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔

مزید خبریں