جمعرات,  16 جولائی 2026ء
ماجد ستی کے دو معصوم بیٹیوں اور ایک بیٹے کو چار سال بعد انصاف مل گیا

راولپنڈی(روشن پاکستان نیوز) راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے معروف کاروباری شخصیت ماجد ستی کے قتل کیس کا تقریباً چار سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ امتیاز کھوکھر، امیر حمزہ اور حیدر علی عرف علی جوگی کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج افشاں اعجاز صوفی نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 148 اور 149 کے تحت سزا کا حکم سنایا، جبکہ شریک ملزم وسیم کو شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ فیصلے کے بعد فرخ امتیاز کھوکھر کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کرکے تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ دیگر سزا یافتہ ملزمان پہلے ہی اڈیالہ جیل میں قید تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ہر سزا یافتہ مجرم کو مقتول کے قانونی ورثا کو 10 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملزم معاوضے کی رقم ادا نہ کرے تو قانون کے مطابق اس کی وصولی عمل میں لائی جائے گی۔ مزید برآں، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-بی کے تحت ملزمان کی دورانِ حراست مدت کو سزا کا حصہ شمار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

یہ مقدمہ 23 اگست 2022 کو راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں درج کیا گیا تھا۔ ابتدائی ایف آئی آر میں فرخ امتیاز کھوکھر کا نام شامل نہیں تھا، تاہم بعد ازاں پولیس تفتیش، گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر انہیں مقدمے میں نامزد کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق قتل کی بنیادی وجہ ذاتی اور سیاسی عداوت تھی، کیونکہ ماجد ستی مبینہ طور پر فرخ کھوکھر کے مخالفین کا ساتھ دے رہے تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے 27 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے۔ ان میں چشم دید گواہوں کے علاوہ فارنزک رپورٹس، جیو فارنزک ڈیٹا، ڈیجیٹل شواہد، سفری ریکارڈ اور دیگر تکنیکی ثبوت شامل تھے۔ وکلا کے مطابق انہی شواہد کی بنیاد پر عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ قتل کی منصوبہ بندی میں سزا یافتہ ملزمان کا کردار ثابت ہوتا ہے۔

راولپنڈی پولیس کی مختلف کارروائیاں، ماجد ستی قتل کیس میں تین مجرمان کو عمر قید، متعدد ملزمان گرفتار

پولیس ریکارڈ کے مطابق وقوعہ کے روز ماجد ستی اپنے عزیزوں کے ہمراہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع دفتر سے نکل رہے تھے جب انہیں ایک جاننے والے کی کال موصول ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ ایک گاڑی کے قریب موجود تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق اس کیس میں مبینہ شوٹر سمیت چار ملزمان اب بھی مفرور ہیں اور عدالت انہیں پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں تاکہ مقدمے کے باقی ملزمان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر راولپنڈی جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ مقتول ماجد ستی کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور حامیوں کے علاوہ ملزمان کے حامی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جس کے باعث عدالت کے احاطے میں اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی۔ مسلح افراد اور گاڑیوں کے داخلے پر پابندی رہی جبکہ تمام آنے والوں کی جامع تلاشی لی گئی۔

ماجد ستی ایک معروف کاروباری شخصیت تھے۔ ان کے قتل نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ کاروباری حلقوں کو بھی گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ اپنے پیچھے دو معصوم بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑ گئے ہیں، جنہوں نے چار برس تک اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں انصاف کا انتظار کیا۔ ورثا نے عدالتی فیصلے کو انصاف کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مفرور ملزمان کی گرفتاری اور مکمل قانونی کارروائی کی تکمیل کے بھی منتظر ہیں۔

دوسری جانب فرخ امتیاز کھوکھر کے وکلا نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے موکل بے گناہ ہیں اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف جلد متعلقہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اپیل دائر ہونے کے بعد مقدمہ اعلیٰ عدالت میں دوبارہ زیر سماعت آئے گا، جہاں شواہد اور قانونی نکات کا ازسرنو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا ہے جس پر گزشتہ چار برس سے عوامی اور میڈیا کی گہری نظر تھی۔ عدالت کے فیصلے نے اس کیس کو ایک اہم قانونی موڑ ضرور دیا ہے، تاہم مفرور ملزمان کی گرفتاری اور اپیل کی کارروائی کے باعث یہ معاملہ آئندہ بھی قانونی اور عوامی توجہ کا مرکز رہنے کا امکان رکھتا ہے۔

مزید خبریں