بدھ,  15 جولائی 2026ء
وفاقی وزیر توانائی کی نئی پھلجڑی
پاکستان میں لوڈ شیڈنگ: مسئلہ بجلی کا نہیں، نظام کا ہے

وفاقی وزیر پانی و بجلی جناب اویس لغاری نے ایک نئی پھلجڑی چھوڑی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی سولر انرجی کی وجہ سے واپڈا تکنیکی اور انتظامی مسائل کا شکار ہو رہا ہے ۔ بالفاظ دیگر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ملک میں سولر انرجی پر کسی نہ کسی شکل میں پابندی عائد کر دی جائے ۔
سولر انرجی کے زرائع تو پہلے سے موجود تھے مگر پاکستان میں اتنی تیزی کے ساتھ سولرائیزیشن کیوں شروع ہوئی کہ آج وزیر توانائی اس سے خوفزدہ ہیں اور کیوں ہیں ؟ پاکستان میں جب تک بجلی سستی تھی اور ظالمانہ لوڈ شیڈنگ بھی نہیں تھی تو لوگوں کی توجہ سولر انرجی کی طرف نہیں جا رہی تھی ۔ چوبیس گھنٹوں میں جب چار ، چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی تو لوگ یو پی ایس اور چھوٹے جنریٹرز چلا کر اپنا کام چلا لیتے تھے ۔

یہ جنریٹرز ذیادہ تر قدرتی گیس سے چلتے تھے اور ان کا خرچہ بہت کم ہوا کرتا تھا ۔ چونکہ ہمارے حکمران تو ہمیشہ سے عوام دشمن ہی رہے ہیں لہٰذا ان سے یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ عوام کو کیوں یہ سہولت مل رہی ہے ؟ اس لیے ایک تو قدرتی گیس بے حد مہنگی کر دی گئی اور دوسری طرف گیس کی بھی لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی تاکہ عام لوگ کم خرچ میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مقابلہ نا کر سکیں ۔

اس کے بعد عوام کو مزید مصیبت میں مبتلا کرنے کے لیے بجلی کی قیمت میں بے انتہا اضافہ کر دیا گیا جس نے عام لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ ملک میں بجلی کی چوری تو پہلے بھی ہوتی تھی مگر جب بجلی بہت زیادہ مہنگی ہو گئی تو اس کی چوری میں بھی اضافہ ہونے لگا اور حقیقت یہ ہے کہ اس مکروہ دھندے میں بجلی چوروں کا ساتھ واپڈا والے بھی دے رہے ہیں ۔

لہذا ان حالات کی وجہ سے ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہونے لگا اور اب حالت یہ ہے کہ چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہی علاقوں میں چوبیس گھنٹوں میں پندرہ ، سولہ گھنٹوں تک کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے ۔ انتہائی مہنگی بجلی اور ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگوں کو جب شمسی توانائی کی سہولت ملنے لگی تو انہوں نے تیزی کے ساتھ اسے اپنانا شروع کر دیا اور شروع شروع میں حکومت نے بھی اس معاملے میں ان کی حوصلہ افزائی کی جس کی وجہ سے بڑے شہروں میں لوگوں نے چھتوں پر سولر پینلز لگا کر نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کرنا شروع کر دی جس سے انکا بجلی کا بل کم ہوگیا ۔ اسی طرح بڑے پیمانے پر لوگوں نے سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریز لگا کر مہنگی بجلی اور ظالمانہ لوڈ شیڈنگ سے جان چھڑانا شروع کر دی ۔

اس سے عوام کا مسئلہ تو حل ہونا شروع ہوگیا لیکن حکومت مسائل کا شکار ہونے لگی کیونکہ پچھلی حکومتوں نے indipendent power producers یعنی IPP,s کے ساتھ بجلی فراہمی کے جو بے حد ظالمانہ اور بے انصافی پر مبنی معائدے کیے تھے وہ حکومت کے گلنے پڑنے لگے کیونکہ ان معاہدوں کی رو سے یہ آئی پی پیز بجلی بنائیں یا بنائیں حکومت کو انہیں پیسے دینے پڑتے ہیں ۔ لہذا جب لوگ واپڈا کی بجلی کم استعمال کرینگے تو واپڈا کی آمدنی کم ہوگی اور پھر حکومت آئی پی پیز کو یہ بدمعاشی ٹیکس کہاں سے دے گی ؟ لہذا سب سے پہلے تو حکومت نے آن گرڈ بجلی کا جو سسٹم شروع کیا تھا اس کی حوصلہ شکنی شروع کردی تاکہ لوگ بد دل ہو کر سولر پینلز نا لگائیں اور مجبوراً واپڈا کی مہنگی بجلی استعمال کریں ۔

مگر دوسری طرف ٹیکنالوجی چونکہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے اس لیے سولر پینلز ، انورٹرز اور خاص طور پر بجلی محفوظ کرنے والی بیٹریز دن بہ دن سستی ہو رہی ہیں اور لوگ اسے خرید رہے ہیں اس لیے اب حکومت پریشانی کے عالم میں بے سرو پا بیانات دے کر لوگوں سے یہ سہولت چھیننے کی کوشش کر رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ظالمانہ معائدے ختم کرے تاکہ کیپیسٹی پیمنٹ کے اربوں روپے کی بچت ہو سکے اور فوری طور پر پانی اور ہوا سے بجلی بنانے کے اقدامات کرے تاکہ ملک میں نا صرف بجلی کی کمی ختم ہو بلکہ لوگوں کو سستی بجلی میسر آئے ۔ پاکستان اس وقت تک صنعنی ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک میں صنعت کاروں کو سستی بجلی فراہم نہیں کی جاتی .

اس خطے میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے لہذا پاکستان کا صنعت کار عالمی منڈیوں میں دوسرے ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ اب ملک میں چھوٹی صنعتیں بھی شمسی توانائی پر منتقل ہو رہی ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عقل سے کام لے اور اس بات پر غور کرے کہ لوگ کس وجہ سے بڑی تعداد میں قومی گرڈ کو چھوڑ کر شمسی توانائی اپنا رہے ہیں ؟ آج بھی اگر ملک میں بجلی سستی اور وافر ہو جائے تو لوگ قومی گرڈ کی بجلی ہی استعمال کرینگے کیونکہ باقی زرائع سے عام لوگ بجلی حاصل تو کرتے ہیں لیکن اس میں کافی جھنجھٹ بھی ہوتی ہے ۔ کبھی سولر پینلز آندھی ، طوفان میں گر کر ٹوٹ جاتے ہیں تو کبھی انورٹر خراب ہو جاتا ہے اور کبھی بیٹری کام چھوڑ دیتی ہے تو جب انہیں واپڈا لگاتار سستی بجلی فراہم کرے گا تو وہ کیوں یہ جھنجھٹ پالیں گے ۔

بال اب حکومت کے کورٹ میں ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کو تو کسی صورت میں بزور شمشیر نہیں روکا جا سکتا اس لیے اگر حکومت بجلی کے معاملے میں لوگوں پر ظلم کرے گی تو لوگ سستی اور لگاتار بجلی کے حصول کے لیے دیگر ذرائع کی طرف جائینگے تو حکومت اپنے لاڈلے آئی پی پیز کو مفت میں اربوں روپے کہاں سی دے گی ؟

حکومت کو چاہیے کہ وہ ان آئی پی پیز کے مالکان کو بٹھا کر انہیں بتائیں کہ یا تو تم لوگ ہمارے ساتھ نئے سرے سے انصاف پر مبنی معائدے کرو یا ان معاہدوں کی منسوخی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔ مگر سننے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی بڑی تعداد جو حکومت اور حزب اختلاف میں ہیں ان آئی پی پیز کے مالکان ہیں کسی نا کسی رنگ میں لہذا اپنے پیروں پر کون کلہاڑی مارے گا ۔

تحریر: داؤد درانی

مزید خبریں