اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت ہوا، جس میں پیپلز پارٹی کی رکن کمیٹی سحر کامران نے بل کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم چیئرمین سمیت دیگر اراکین نے بل کی حمایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو اہم تقرریوں اور فوری نوعیت کے فیصلوں کے حوالے سے اختیارات دینے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلہ سازی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اختیارات میں توازن ضروری ہے۔
شیزا فاطمہ کے گھر پر بھی ٹاور لگنا چاہیے، نہ لگانے دیں تو جرمانہ کیا جائے: سحر کامران
کمیٹی کو پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ قومی ایئرلائن کے 100 فیصد حصص کی فروخت سے حکومت کو 55 ارب روپے حاصل ہوں گے، جن میں سے 10 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی رقم حصص کی منتقلی کے بعد موصول ہوگی۔
حکام کے مطابق پی آئی اے کی بہتری کے لیے سرمایہ کاری جاری ہے، جبکہ ایئرلائنز کے لیے جی ایس ٹی چھوٹ اور دیگر نجکاری منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں پاکستان ری انشورنس کمپنی لمیٹڈ اور روزویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے متعلق پیش رفت سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا۔











