واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) ایران کی جانب سے زیرِ حراست امریکی شہری کی رہائی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر معمولی اظہارِ تشکر کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے ایک زیرِ حراست امریکی خاتون کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا جس خاتون کو رہائی دی گئی اسے بائیڈن دور میں ایران نے گرفتار کیا تھا۔
انھوں نے لکھا دسمبر 2024 میں گرفتار کی گئی امریکی خاتون اب بہ حفاظت ایران سے باہر نکل چکی ہے، امریکا ایران کے اس خیر سگالی کے جذبے پر مبنی اقدام کو سراہتا ہے۔
ٹرمپ عراق کے نئے وزیراعظم کے معترف، اچھا لیڈر قرار دیدیا
یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے لیے اظہارِ تشکر کا ایک نادر موقع ہے، ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے اور جاری تنازع بھی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب بھی کسی نہ کسی سطح پر رابطہ برقرار ہے۔ پنسلوینیا میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے وہی بات دہرائی جو تقریباً 24 گھنٹے قبل کہی تھی کہ، ان کے بقول ’’ہمارے لوگ ان کے لوگوں سے بات کر رہے ہیں‘‘ جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکی اور ایرانی انتظامیہ کے درمیان بات چیت کا ایک ذریعہ تاحال موجود ہے۔
دریں اثنا، ایرانی پلوں پر حملوں سے متعلق صحافیوں کے سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں، ایران کو اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیے، وہ صورت حال کو بہتر طور پر سمجھ رہا ہے، ایرانی رہنما ملاقات کرنا چاہتے ہیں، اور معاملات طے کرنا چاہتے ہیں، جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا ہم ان کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچتے ہیں یا پھر معاملہ مکمل طور پر نمٹا دیتے ہیں۔











