تہران/واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) : امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کی تنصیبات پر مسلسل پانچویں رات حملے کیے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے مسلسل پانچویں رات ایران پر حملوں کی تازہ ترین لہر مکمل کر لی ہے، جس میں ایرانی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاع، میزائل اور ڈرون تنصیبات، بندر عباس سمیت متعدد مقامات پر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
گریٹر تنب جزیرے پر ساحلی دفاع اور کروز میزائل سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں 7 فوجی شہید اور متعدد زخمی ہوئے، امریکا نے سیستان بلوچستان کے علاقے بامپور میں چھاؤنی پر حملہ کیا، ایک بیرک کو 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
جواب میں پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ اس نے کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مشترکہ حملہ کیا ہے، آئی آر آئی بی نشریاتی ادارے کی جانب سے نشر کیے گئے ایک بیان میں پاسداران نے کہا کہ اس نے اپنی ’’نصر 2‘‘ کارروائی کی آٹھویں لہر کے دوران سی-رام (C-RAM) ابتدائی انتباہی ریڈار اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے مقام کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف حملوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، اور کویتی عوام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔
ایران نے اردن کے ازرق ایئر بیس پر بھی امریکی تنصیبات پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، اور کہا ہے کہ امریکی مواصلاتی نظام، ریڈار سائٹ اور ایندھن ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، ایرانی فوج کے مطابق یہ ڈرون حملہ آپریشن صاعقہ کے نویں مرحلے کا حصہ تھا، اور یہ ایران پر حالیہ امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔











