راولاکوٹ(روشن پاکستان نیوز) جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاجی دھرنے کے حوالے سے رات گئے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کے گرد قائم دونوں مرکزی دھرنا مقامات کو خالی کروا دیا گیا، جس کے بعد شرکاء منتشر ہو گئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھرنا گاہ کے مرکزی اسٹیج سے اعلان کیا گیا کہ سکیورٹی کی سنگین صورتحال اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر شرکاء فوری طور پر گراؤنڈ خالی کر دیں۔ اعلان کے بعد دونوں مقامات پر موجود افراد واپس جانے لگے جبکہ اسٹیج اور دیگر انتظامی ڈھانچے بھی ہٹا دیے گئے۔
تاحال عوامی ایکشن کمیٹی یا آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے دھرنا مکمل طور پر ختم کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان کسی ممکنہ رابطے یا مذاکرات کی بھی کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔
برطانوی کشمیری کمیونٹی کا لندن میں “لانگ مارچ فار جسٹس، رائٹس اینڈ سالیڈیرٹی” کا اعلان
ذرائع کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ رات کے وقت سکیورٹی خدشات اور کسی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے شرکاء کو عارضی طور پر واپس بھیجا گیا ہو اور احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب موجودہ صورتحال نے عوامی ایکشن کمیٹی کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ احتجاجی تحریک کی نئی حکمت عملی، حفاظتی نوعیت کے عارضی اقدام یا کسی پس پردہ پیش رفت کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔
فی الحال مصدقہ اطلاعات کے مطابق راولاکوٹ کے دونوں بڑے دھرنا مقامات خالی ہو چکے ہیں جبکہ تحریک کے مستقبل اور اگلے مرحلے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔











