لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانوی سیاست دان جیریمی کوربن نے اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس میں سیاسی تشدد، نسل پرستانہ بیانیے اور بین الاقوامی تنازعات کے حوالے سے اپنے مؤقف کو ایک بار پھر واضح کیا ہے۔
جیریمی کوربن نے بیلفاسٹ میں ہونے والے مبینہ انتہائی دائیں بازو کے فسادات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نفرت انگیز اور نسل پرستانہ زبان معاشرتی تقسیم اور بدامنی کو ہوا دیتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی رہنماؤں اور عوامی شخصیات کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو تشدد یا نفرت کو فروغ دے سکتے ہوں۔
بین الاقوامی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کوربن نے اسرائیل کے ساتھ فوجی تعاون پر تنقید کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق سے متعلق خدشات کے پیش نظر مزید سخت اقدامات اور پابندیوں پر غور کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی اور قانونی راستوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ہینری نوواک کیس کے بعد برطانیہ میں کرپان اور چاقو قوانین پر نئی بحث چھڑ گئی
دوسری جانب جیریمی کوربن نے مشرقی بیلفاسٹ میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات مشرقی بیلفاسٹ میں انتہائی ہولناک مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں ایک گھر کے ساتھ واقع مکان کو آگ لگا دی گئی، جس کے باعث ایک خاندان کو اپنی رہائش گاہ سے ریسکیو کرنا پڑا۔ کوربن کے مطابق انہوں نے خود نقاب پوش افراد کو “غیر ملکیوں کو باہر نکالو” کے نعرے لگاتے اور گھروں کے دروازوں اور کھڑکیوں پر لاتیں مارتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اس واقعے کو نسل پرستی اور نفرت انگیزی کی خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
کوربن کی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں سیاسی پیغامات اور عوامی آگاہی مہمات نمایاں ہیں، جہاں وہ مختلف عالمی اور مقامی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی حالیہ پوسٹس نے سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بحث کو بھی جنم دیا ہے۔











