لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانوی میڈیا ادارے Sky News رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق پالیسی میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں ایک طرف سخت فوجی کارروائیوں اور میزائل حملوں کی بات سامنے آتی ہے تو دوسری طرف جلد سفارتی پیش رفت کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس غیر یقینی اور بدلتی ہوئی حکمتِ عملی کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اسی دوران بعض واقعات میں غیر ملکی شہریوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران پر بمباری جلد رک جائے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
مزید یہ کہ جدید دور میں جنگی اور سیکیورٹی معاملات میں مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نگرانی کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان رپورٹس کے بعد عوامی ردِعمل میں تقسیم دیکھنے میں آئی ہے، جہاں کچھ صارفین نے سرکاری بیانات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
ساتھ ہی خبروں میں چند مختصر انسانی دلچسپی کے واقعات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایریزونا میں ریچھ کے ریسکیو اور صومالی ریفری کے ویزا انکار کا واقعہ شامل ہے، جو عالمی خبروں کے دباؤ کے درمیان ایک وقتی وقفہ فراہم کرتے ہیں۔











