واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) امریکا نے ایران کی مزید نوشخصیات اور اداروں پر پابندی لگا دی، پابندیوں کا مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ایران کی مالی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایران کے فوجی اور ہتھیاروں کے پروگرامز کو نشانہ بناتے ہوئے مزید 9 اہم شخصیات اور کاروباری اداروں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بتایا کہ ان پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھا کر اس کی مالی اور عسکری سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ نئی پابندیاں ان افراد اور نیٹ ورکس کے خلاف لگائی گئی ہیں جو ایرانی وزارتِ دفاع ، پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور ایرانی مسلح افواج اسلحہ اور جدید ٹیکنالوجی کی خریداری میں غیر قانونی معاونت فراہم کر رہے تھے:
محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات میں بتایا گیا کہ ان بلیک لسٹ کیے گئے اداروں میں چین اور ہانگ کانگ میں قائم چند ایسی کمپنیاں اور سہولت کار بھی شامل ہیں جو ایران کے خفیہ بینکنگ نیٹ ورک کا حصہ بن کر کروڑوں ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے سودوں کی ادائیگیاں چھپانے میں ملوث پائے گئے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس اہم کارروائی کے حوالے سے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “امریکہ ‘اکنامک فیوری’ کے تحت ان تمام بیرونی نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا جو ایرانی فوج کو ہتھیار فراہم کرنے میں مددگار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایرانی حکومت کے اثاثے منجمد کر کے ان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان کی جنگی مشینری کو مفلوج کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی فوج کے لیے کسی بھی قسم کی عالمی معاونت یا سہولت کاری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔”
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ واشنگٹن مستقبل میں بھی ان تمام بین الاقوامی کمپنیوں، نیٹ ورکس اور مالیاتی اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گا جو ایران کے ساتھ دفاعی یا غیر قانونی تجارتی روابط برقرار رکھیں گے۔











