تحریر: ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ ماننا پڑے گا کہ یہاں جنگیں صرف سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ بیانیوں، مفادات، پیٹرول، ڈیزل، گیس اور خوف کی تہوں میں بھی لڑی جاتی رہی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کوئی اچانک بھڑک اٹھنے والا تنازع نہیں، بلکہ اس کی جڑیں بیسویں صدی کے وسط اور خاص طور پر 1979ء کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل کر رکھ دیا بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن کو بھی نئے سرے سے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے نہیں تھے۔ 1979ء سے پہلے ایران ان چند مسلم ممالک میں شامل تھا جو اسرائیل کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن آیت اللہ خمینی کی قیادت میں آنے والے انقلاب نے اسرائیل کو “غاصب ریاست” قرار دیا اور یوں ایک نظریاتی دشمنی نے جنم لیا جو وقت کے ساتھ ساتھ عسکری اور سفارتی محاذ آرائی میں بدلتی گئی۔
اس دشمنی نے لبنان، شام اور غزہ جیسے خطوں کو پراکسی جنگوں کا میدان بنا دیا۔ حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی پشت پناہی نے ایران کو ایک غیر روایتی طاقت کے طور پر ابھارا، جبکہ اسرائیل نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو پیشگی حملوں اور انٹیلی جنس برتری پر استوار کیا۔
حالیہ صورتحال میں جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ روایتی جنگ سے زیادہ “کنٹرولڈ اسکیل” پر ایک بڑی جنگ کا عکس معلوم ہوتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل کی جانب سے ایران کی تنصیبات پر حملوں کا تسلسل ہے، تو دوسری طرف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خلیجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ سفارتی بیانیہ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ حملے مؤخر کرنے کا اعلان اور ساتھ ہی مذاکرات کی امید ظاہر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن جنگ اور ڈیل، دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران کی قیادت ان خبروں کی تردید کر کے اپنی داخلی ساکھ کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ تضاد دراصل اس بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جنگ کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور عوامی دباؤ کے بیچ بھی ہوتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے بلکہ یورپ، ایشیا اور امریکہ تک پھیل جاتے ہیں۔
انیس سو تہتر اور انیس سو اناسی کے تیل بحرانوں نے دنیا کو یہ سبق دیا تھا کہ توانائی صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بھی ہے۔ آج کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ عالمی معیشت پہلے ہی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔
موجودہ بحران میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف اس کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور تاریخی روابط ہیں۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سفارتی سرگرمیاں اور ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست رابطہ ایک نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی “رسائی” ہے۔ وہ بیک وقت واشنگٹن، تہران اور ریاض سے بات کر سکتا ہے۔ لیکن یہی طاقت اس کا سب سے بڑا امتحان بھی ہے۔ کیونکہ ایک غلط قدم اسے غیر جانبدار ثالث سے جنگ کا فریق بنا سکتا ہے۔
یہ صورتحال کسی تنی ہوئی رسی پر چلنے جیسی ہے۔ نیچے معاشی بحران، اوپر عالمی دباؤ اور دونوں طرف علاقائی طاقتیں۔
داخلی چیلنجز: فرقہ وارانہ دباؤ اور ریاستی استحکام
پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ حساسیت اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ایران کے ساتھ مذہبی اور جذباتی وابستگی رکھنے والے طبقات اور دوسری طرف ریاستی مفادات کے تقاضے، یہ ایک ایسا تضاد ہے جسے سنبھالنا بالکل آسان نہیں۔
ریاست پاکستان کی کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ داخلی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔ کیونکہ بیرونی جنگوں کا سب سے خطرناک اثر اندرونی انتشار کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ بحران مکمل جنگ میں بدل جائے گا یا سفارتی حل نکل آئے گا۔ لیکن چند نکات واضح ہیں۔ جنگ کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں، مگر طاقت کا مظاہرہ سب کے مفاد میں ہے۔ ہماری سفارت کاری جاری ہے، مگر اس کا انحصار اعتماد پر ہے جو اس وقت کمزور دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا بطور ثالث کردار انتہائی اہم ہے، مگر خطرات بھی اسی تناسب سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے نہ صرف عالمی سیاست بلکہ اپنی داخلی حقیقتوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔
یہ پانچ دن، جن کا ذکر کیا جا رہا ہے، محض وقتی مہلت نہیں بلکہ ایک امتحان ہیں۔ اگر اس دوران کوئی بامعنی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ خطے کے لیے ایک نئی سمت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ورنہ یہی مہلت ایک بڑے تصادم کی تمہید بھی بن سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تیسری عالمی جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اسے روکنے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے۔ اور اس پوری بساط پر ایک حقیقت واضح ہے کہ کبھی کبھی تاریخ میدانِ جنگ میں نہیں، ایک فون کال یا ایک ریموٹ کنٹرول میں بھی لکھی جاتی ہے۔ الله ہم سب کو جنگ سے بچائے اور ہمارے نصیب میں امن لکھ دے آمین۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر کیا جاسکتا ہے ۔











