اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) پاکستان اور خلیجی امور کے مطالعاتی ادارے نے امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تنازع اپنے 25ویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی توانائی تنصیبات پر مجوزہ حملوں کو پانچ روز کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری بات چیت کے تناظر میں کیا گیا، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر مستحکم ہو گئی ہیں، جبکہ اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت میں معمولی اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ہرجانے کے معاملے پر اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وقفے کے اعلان کے باوجود اصفہان اور خرمشہر میں توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے، جبکہ اسرائیلی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔
ادھر امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی تعیناتیوں میں اضافہ جاری ہے، جس میں میرین دستوں کی تعیناتی اور فضائی افواج کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز مکمل نہ کھولی تو سخت کارروائی ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس صورتحال میں ثالثی کا کردار مزید فعال کر دیا ہے۔ شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ سید عاصم منیر اور امریکی صدر کے درمیان بھی گفتگو کی گئی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔
ترکی اور مصر بھی پس پردہ سفارتی کوششوں میں شریک ہیں، جبکہ عمان روایتی طور پر آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے میں کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ روس اور چین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادارے کے مطابق پانچ روزہ وقفہ مکمل جنگ بندی نہیں بلکہ ایک محدود سفارتی موقع ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی مرحلہ وار بحالی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم مسلسل حملوں کے باعث اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی معاہدے کے لیے ٹھوس اعتماد سازی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آئندہ 72 سے 96 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، کیونکہ مزید کشیدگی خطے میں بڑے بحران اور عالمی توانائی منڈی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی توانائی حکمت عملی کو متنوع بنائے، اہم راہداریوں کا تحفظ یقینی بنائے اور سفارتی کوششوں کو تیز کرے تاکہ قومی اور علاقائی مفادات کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔











