اتوار,  13  ستمبر 2026ء
حوثیوں نے باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع انتہائی اہم جزیرے ’پریم‘ پر بھی قبضہ کر لیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) یمن کے حوثی جنگجوؤں کی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حالیہ پیش قدمی نے امریکا سمیت خطے میں سکیورٹی کے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ اہم بحری گزرگاہوں اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے باب المندب آبنائے کے وسط میں واقع انتہائی اہم جزیرے ’پریم‘ پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جس کے بعد توانائی کی ترسیل کے ایک اور اہم سمندری راستے کے متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جزیرے پر کنٹرول حوثیوں کو باب المندب سے گزرنے والی بحری ٹریفک پر دباؤ بڑھانے کی اضافی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے بڑھتے ہوئے سمندری اثر و رسوخ سے ایران کو بھی اہم بحری گزرگاہ پر دباؤ ڈالنے کا موقع مل سکتا ہے، جس کے باعث خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔

حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا: یمن کی انصار اللہ تنظیم کا دعویٰ

ایگزیوس کے مطابق حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے بعد عالمی تجارت اور سعودی عرب کی تیل برآمدات سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی ممکنہ تعطل کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب فاکس نیوز کے مطابق امریکی بحریہ نے بحیرۂ احمر میں اپنی نگرانی بڑھا دی ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر تعینات امریکی بحریہ خطے میں بحری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر باب المندب اور آبنائے ہرمز دونوں اہم بحری راستے بیک وقت دباؤ کا شکار ہوئے تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں اور رسد پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

ادھر حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی جہازوں کے علاوہ دیگر تمام بحری جہازوں کے لیے سمندری راستے محفوظ ہیں، تاہم سعودی بحری جہازوں پر پہلے سے عائد پابندی بدستور برقرار رہے گی۔

مزید خبریں