اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) ہاشو گروپ کے منصوبے ’’گولڈن پامز گوادر‘‘ کے متاثرین نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ 22 سال سے ڈوبی ہوئی ان کی رقوم واپس دلانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ گولڈن پامز منصوبے میں ہزاروں افراد نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگائی، تاہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود انہیں نہ پلاٹس مل سکے اور نہ ہی رقوم واپس کی گئیں۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرین کے نمائندے فہیم فاروقی اور منصور جاوید و دیگرنے کہا کہ متاثرین نے نیب سے رجوع کیا تو ابتدائی طور پر صرف 12 افراد کی درخواستیں چیئرمین نیب کو بھجوائی گئیں، جنہیں متعلقہ حکام کو کارروائی کے لیے فارورڈ کیا گیا۔ بعد ازاں مزید متاثرین سے رابطوں، فون کالز اور خطوط کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور اب تک سیکڑوں متاثرین کو گروپ میں شامل کیا جا چکا ہے۔فہیم فاروقی نے بتایا کہ متاثرین کے واٹس ایپ گروپ میں اس وقت تقریباً 750 متاثرین کا ڈیٹا موجود ہے، جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین پاکستان کے علاوہ کینیڈا، برطانیہ، امریکا، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق نیب کی جانب سے درخواستوں کے ساتھ مکمل دستاویزات، بینک ادائیگیوں کا ریکارڈ اور متعلقہ ثبوت فراہم کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے، جس پر متاثرین اپنی استطاعت کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گولڈن پامز منصوبہ 2004 میں گوادر میں شروع کیا گیا تھا۔ متاثرین کے مطابق منصوبے کی تشہیر انتہائی بڑے پیمانے پر کی گئی اور ملک کے مختلف شہروں کے علاوہ بیرون ملک بھی اس کی مارکیٹنگ کی گئی۔ خوبصورت منصوبہ بندی، تشہیری مواد اور بڑے ہوٹلوں میں تقریبات کے ذریعے لوگوں کو سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے اس منصوبے میں اپنی رقوم لگائیں۔متاثرین کا کہنا تھا کہ 2007 کے بعد منصوبے کی صورت حال واضح ہونا شروع ہوئی اور منصوبے سے متعلق معلومات اور اپ ڈیٹس میں کمی آ گئی۔ بعد ازاں انہیں معلوم ہوا کہ منصوبے کی زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت کے حوالے سے تنازعات موجود تھے اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے منصوبے کا این او سی بھی معطل کیا جا چکا تھا۔منصور جاوید نے بتایا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی معاملہ زیر سماعت رہا اور عدالت کی جانب سے متاثرین سے وصول کی گئی رقوم کے حوالے سے اہم قانونی آبزرویشنز سامنے آئیں۔ متاثرین کے مطابق عدالت نے رقوم کی واپسی سے متعلق بھی احکامات دئیے، تاہم اس کے باوجود انہیں تاحال ان کی رقم واپس نہیں مل سکی۔انہوں نے کہا کہ معاملہ بعد ازاں سپریم کورٹ تک پہنچا اور طویل عرصے تک زیر سماعت رہا، جبکہ عدالتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد کیس مختلف مراحل سے گزرتا رہا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ 22 سال ایک پوری نسل کے برابر عرصہ ہے، اس دوران کئی متاثرین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جبکہ ان کے بچوں اور خاندانوں کو بھی اس سرمایہ کاری کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔فہیم فاروقی نے کہا کہ متاثرین میں محنت کش، ملازمین، کاروباری افراد اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شامل ہیں۔ بعض افراد نے اپنی زندگی بھر کی بچت اس منصوبے میں لگائی، جبکہ کئی متاثرین ایسے بھی ہیں جن کے والدین نے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے یہ سرمایہ کاری کی تھی۔متاثرین کے نمائندوں نے بتایا کہ نیب نے حالیہ عرصے میں اس معاملے کو دیکھنا شروع کیا ہے اور متاثرین کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا اور درخواستوں پر متعلقہ حکام کارروائی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق نیب کی جانب سے اخباروں میں اشتہار بھی جاری کیا گیا ہے جس میں متاثرین سے مقررہ تاریخ تک اپنی درخواستیں اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔فہیم فاروقی نے چیئرمین نیب سے اپیل کی کہ معاملے کو صرف چند درخواست گزاروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ گولڈن پامز منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والے تمام متاثرین کا مکمل ڈیٹا حاصل کرکے تحقیقات کو وسیع کیا جائے تاکہ کسی بھی متاثرہ شخص کا حق ضائع نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کے پاس موجود تقریباً 750 متاثرین کے ڈیٹا کے مطابق صرف ان افراد کی مجموعی رقم تقریباً دو ارب روپے بنتی ہے، جبکہ منصوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور مجموعی مالی نقصان کئی ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔منصور جاوید نے میڈیا سے اپیل کی کہ متاثرین کی آواز حکام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے اور اس معاملے سے متعلق دستاویزات اور شواہد کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ دو دہائیوں سے انصاف کے منتظر متاثرین کا مسئلہ قومی سطح پر سامنے آ سکے۔متاثرین نے حکومت اور نیب سے مطالبہ کیا کہ ہاشو گروپ اور گولڈن پامز منصوبے کے معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور متاثرین کی رقوم کی واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پلاٹس کی فراہمی ممکن نہیں تو موجودہ مالیت کے تناظر میں ان کی اصل رقوم اور قانونی طور پر واجب الادا رقم کی واپسی یقینی بنائی جائے۔متاثرین نے واضح کیا کہ وہ 22 سال گزرنے کے باوجود اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور انصاف کے حصول کے لیے قانونی و آئینی ذرائع سے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔











