اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور اہم بحری راستوں پر حملوں کے باعث عالمی تیل منڈی میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں رواں ہفتے 8 فیصد سے زائد اضافے کی جانب گامزن ہیں، جبکہ امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3.02 ڈالر یعنی 2.81 فیصد کمی کے بعد 104.61 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 2.43 ڈالر یعنی 2.37 فیصد کمی کے بعد 100.05 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
اگرچہ جمعے کو دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں کمی ہوئی، تاہم رواں ہفتے اب تک برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں میں 8 فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے۔ دورانِ کاروبار دونوں کی قیمتیں مئی کے وسط کے بعد بلند ترین سطح پر بھی پہنچیں۔
امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے عارضی معاہدے کی ممکنہ کوششوں کی خبروں نے جمعے کو تیل کی قیمتوں پر کچھ دباؤ کم کیا، تاہم مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے قریب دھویں کے مناظر سیٹلائٹ تصاویر میں سامنے آنے کے بعد تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر خام تیل کی برآمدات منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق حملوں کے باعث سعودی عرب کی خام تیل کی سپلائی اگست میں ماہانہ بنیاد پر 23 لاکھ بیرل یومیہ کم ہوکر 60 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔
عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبنائے ہرمز میں بھی بحری سرگرمی متاثر ہوئی ہے۔ ابتدائی شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جمعرات کو آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد 11 سے کم ہوکر 7 رہ گئی۔
اس دوران یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے باب المندب آبنائے کے قریب جزیرہ پریم تک پہنچنے کی اطلاعات نے بھی عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ادھر روس کی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات امریکی ایندھن مارکیٹ پر بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ قیمتوں کے ٹریکر گیس بڈی کے مطابق امریکا میں قومی اوسط ڈیزل قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خلیجی خطے میں بحری نقل و حمل کی مشکلات اور روسی ریفائننگ میں رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو ڈیزل سمیت ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں خام تیل کے مقابلے میں مزید تیزی آسکتی ہے۔
جرمن بینک کومرز بینک نے سال کے اختتام کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کا تخمینہ 75 ڈالر سے بڑھا کر 85 ڈالر فی بیرل کردیا ہے، جبکہ ڈیزل اور جیٹ فیول کے تخمینوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈی میں آنے والے دنوں کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔











