لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں گھریلو توانائی کے بل یکم اکتوبر سے ایک بار پھر مہنگے ہونے جا رہے ہیں۔ توانائی کے نگران ادارے آفجیم نے قیمتوں کی حد میں 4 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایک اوسط گھرانے کا سالانہ توانائی بل تقریباً 60 پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 1,723 پاؤنڈ تک پہنچ جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی توانائی منڈی کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ جنوری میں توانائی کی قیمتوں میں مزید 9 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب بجلی اور گیس کے بلوں کی عدم ادائیگی کے باعث توانائی کمپنیوں کے واجبات تقریباً 6 ارب پاؤنڈ تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ خدشہ ہے کہ سال کے اختتام تک یہ رقم 7 ارب پاؤنڈ تک بڑھ سکتی ہے۔
برطانیہ: بڑھتی لاگت اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ملازمتوں کے مواقع کم ہونے لگے
حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے یکم اکتوبر سے چھ ماہ کے لیے گھریلو توانائی کے بلوں پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ایک اوسط گھرانے کو تقریباً 45 پاؤنڈ کی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ تقریباً 60 لاکھ کم آمدنی والے گھرانوں کو وارم ہوم ڈسکاؤنٹ اسکیم کے تحت 150 پاؤنڈ کی اضافی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔
آفجیم کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں گیس اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع اور عالمی توانائی کی رسد پر اس کے ممکنہ اثرات کے باعث تھوک قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کا براہِ راست اثر برطانوی صارفین پر پڑ رہا ہے۔











