جمعرات,  27  اگست 2026ء
پمز میں 15 بچوں کا جاں بحق ہونا المیہ ہے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے: سابقہ ایم پی اےامنہ خانم

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ق) کی سابقہ ایم پی اے اور سینیئر رہنما امنہ خانم نے کہا ہے کہ پمز میں 15 بچوں کا جاں بحق ہو جانا انتہائی افسوسناک اور بڑا المیہ ہے۔ یہ واقعہ مکمل غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے، جس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔سابقہ ایم پی اےامنہ خانم نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے یہ تعین کیا جائے کہ سانحہ کیوں پیش آیا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں نظام چلتا ہوا اور گورننس مؤثر نظر نہیں آ رہی۔ جب اس طرح کے سانحات رونما ہوتے ہیں تو عوام کا یہ سوال درست ہوتا ہے کہ کیا ملک میں بیڈ گورننس نہیں ہے؟سابقہ ایم پی اےامنہ خانم نے کہا کہ دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دو ہسپتال سنبھالنے میں ناکامی انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ اگر پورے ملک کے ہسپتال بھی اسی نگرانی میں ہوتے تو صورتحال مزید تشویشناک ہوتیانہوں نے کہا کہ معصوم اور نوخیز بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکا اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔ والدین کو تحقیقات کے عمل میں شامل کیا جائے اور انہیں مکمل حقائق سے آگاہ کرکے مطمئن کیا جائے۔سابقہ ایم پی اےامنہ خانم نے کہا کہ انتظامیہ کی غفلت اور کوتاہی کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جائے۔ اگر ایمرجنسی گیٹ نہیں کھولا گیا تو اس کی بھی ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ گیس سلنڈرز کا وارڈز کے اندر رکھا جانا بھی ایک اہم سوال ہے۔ حفاظتی انتظامات اور ہسپتال انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا مکمل جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔سابقہ ایم پی اےامنہ خانم نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔آمنہ خانم نے جاں بحق بچوں کے والدین اور اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ناقابلِ تلافی نقصان میں پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید خبریں