منگل,  25  اگست 2026ء
بنگلادیش چین سے J-10CE لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری کیلئے مذاکرات کے قریب پہنچ گیا

ڈھاکہ(روشن پاکستان نیوز) بنگلادیش J-10CE لڑاکا طیاروں اور اٹیک ہیلی کاپٹرز کی ممکنہ خریداری کے حوالے سے چین کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے قریب پہنچ گیا۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک حکومتی پینل اس معاہدے کا مسودہ تیار کر رہا ہے۔

بنگلادیشی وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات زاہد الرحمان نے اس پیشرفت کا اعلان کیا۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ مجوزہ خریداری حالیہ برسوں میں بنگلادیش کی سب سے بڑی دفاعی خریداریوں میں سے ایک ہو گی جس سے چین کے ساتھ اس کے فوجی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، واضح رہے کہ چین پہلے ہی بنگلادیش کو ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

خیال رہے کہ چینی ساخہ لڑاکا طیارے J-10CE نے عالمی سطح پر اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران پاکستان نے ان ہی طیاروں کے ذریعے متعدد بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔

چینی صدر نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 4 اصول بتادیے

زاہد الرحمان نے کہا کہ بنگلادیش نے اپنے پڑوس میں ہونے والے تنازع کے دوران چینی طیاروں کی شاندار کارکردگی کا بغور جائزہ لیا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا خواہاں ہے اور وہ تقریباً 24 J-10CE طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

زاہد الرحمان نے بنگلادیش کی جانب سے خریدے جانے والے طیاروں کی حتمی تعداد، معاہدے کی مالیت یا طیاروں کی ترسیل کے وقت کے حوالے سے فی الحال کچھ نہیں بتایا، ان کا کہنا تھا کہ ان تفصیلات کا تعین مذاکرات کے ذریعے ہی کیا جائے گا۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران چین نے بنگلادیش کو بحری جہاز، لڑاکا طیارے، ٹینک اور میزائل سسٹم فراہم کیے ہیں جس کی وجہ سے وہ بنگلادیش کے لیے فوجی سازوسامان کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔

مزید خبریں