منگل,  25  اگست 2026ء
ٹرمپ انتظامیہ کا امریکا میں پناہ کے خواہشمند غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے ان غیر ملکی شہریوں کے نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جنہوں نے امریکا میں پناہ یعنی سیاسی اسائلم کے لیے درخواست دی ہے یا اس وقت پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کیا کہنا ہے؟

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وہ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر ایسے غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کر رہا ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکا آنے کا دعویٰ کرکے ملک میں داخل ہوئے، تاہم بعد ازاں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دائر کردی۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس عمل کے تحت ایسے افراد کے نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جائیں گے، تاہم حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ مجموعی طور پر کتنے ویزے منسوخ کیے جائیں گے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے بھی ایک بیان میں امریکی امیگریشن نظام میں مبینہ طور پر غیر سنجیدہ یا بے بنیاد پناہ کی درخواستوں کی بڑی تعداد پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی امیگریشن نظام طویل عرصے سے ایسی درخواستوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

ٹرمپ کا دورہ تہران سے قبل فیلڈ مارشل کو فون، ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اثر و رسوخ استعمال کی درخواست کی: رائٹرز

رپورٹ کے مطابق محکمہ خارجہ 2016 سے 2026 کے دوران جاری کیے گئے بی ون اور بی ٹو ویزوں کا جائزہ لے گا۔ ان ویزوں کے حامل وہ افراد جنہوں نے امریکا میں اسائلم کی درخواست دی ہے یا اس وقت پناہ کے لیے درخواست دے رہے ہیں، ممکنہ طور پر اس کارروائی کی زد میں آئیں گے۔

بی ون اور بی ٹو ویزہ کیا ہے؟

بی ون ویزا عام طور پر کاروباری سرگرمیوں جبکہ بی ٹو ویزا سیاحت، تفریح یا مختصر مدتی دوروں کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض غیر ملکی شہری ان ویزوں کو مختصر مدتی دورے کے مقصد سے حاصل کرکے امریکا پہنچنے کے بعد مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواستیں دائر کرتے ہیں۔

تاہم ویزا منسوخی کا مطلب لازمی طور پر فوری ملک بدری نہیں ہوگا۔ امریکی میڈیا کے مطابق جن افراد کے اسائلم کیسز پہلے ہی زیر سماعت ہیں، ان کے امیگریشن اسٹیٹس کو دوبارہ درجہ بند کیا جاسکتا ہے، تاہم وہ کاروباری یا سیاحتی مسافر کی حیثیت کھو دیں گے۔

امریکی میڈیا  کے مطابق امریکی حکومت کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر امریکا آنے والے 2 لاکھ تک غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر یہ اقدام اسی پیمانے پر نافذ کیا گیا تو یہ امریکی تاریخ میں ویزوں کی سب سے بڑی اجتماعی منسوخی قرار دی جاسکتی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی شہریوں کے خلاف ویزا منسوخی اور امیگریشن کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کرچکی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی سیاسی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے ویزوں، گرین کارڈز اور ملک بدری سے متعلق پالیسیوں کو مزید سخت کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قومی سلامتی کو بہتر بنانا اور امیگریشن نظام کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

اسائلم کا نظام کیا ہے؟

امریکا میں پناہ یا اسائلم کا نظام ان غیر ملکی شہریوں کو قانونی تحفظ حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے جو اپنے ملک میں سیاسی، مذہبی، نسلی یا دیگر مخصوص وجوہات کی بنیاد پر ظلم و ستم یا سنگین خطرے کا سامنا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بعض افراد اس نظام کو امریکا میں مستقل قیام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

موجودہ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی صرف غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والے افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے والے بعض غیر ملکی شہری بھی اس کے دائرے میں آ رہے ہیں۔ ویزوں کی منسوخی، گرین کارڈز سے متعلق کارروائیاں، حراست اور ملک بدری کے عمل میں سختی اسی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحفظات

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن کریک ڈاؤن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حقوقِ انسانی کے گروہوں کا کہنا ہے کہ بعض اقدامات سے آزادی اظہار، قانونی کارروائی کے حق اور مناسب قانونی تحفظات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بعض اقلیتی اور تارک وطن برادریوں نے نسلی بنیادوں پر پروفائلنگ کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

حکومت کا موقف

حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا میں داخلے اور قیام کے قوانین کی پابندی ضروری ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ پناہ کے خواہشمند افراد کو قانونی عمل اور مناسب سماعت کا حق بھی ملنا چاہیے۔

مزید خبریں