لندن(روشن پاکستان نیوز) جیفری ایپسٹین کیس کے متاثرین نے برطانوی وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپسٹین کے برطانوی اشرافیہ سے تعلقات کی مکمل تحقیقات کے لیے عوامی انکوائری قائم کی جائے۔
برطانیہ کی ایپسٹین سروائیورز کمپین کے ارکان آنے والے مہینوں میں وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، تقریباً ایک درجن متاثرین کی نمائندگی کرنے والی مہم کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز نے ایسے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ایپسٹین کی موت کے تقریباً 7 سال بعد اس اسکینڈل نے برطانوی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں شاہ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور امریکہ میں سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈیلسن کی گرفتاری عمل میں آئی۔
متاثرین کے مطالبات
متاثرین کی نمائندگی کرنے والی بعض تنظیمیں طویل عرصے سے مطالبہ کرتی آرہی ہیں کہ ایپسٹین کے برطانیہ میں ممکنہ نیٹ ورک، بااثر شخصیات سے روابط اور مبینہ سہولت کاروں کے کردار کی آزادانہ اور شفاف عوامی تحقیقات کرائی جائیں۔
ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ صرف فوجداری تحقیقات کافی نہیں بلکہ ایک جامع عوامی تحقیقاتی کمیشن ہی اس سکینڈل کے تمام پہلوؤں کو سامنے لاسکتا ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کرسکتا ہے۔
متاثرین کے مطابق مجوزہ قومی انکوائری میں ایپسٹین کے برطانوی بااثر حلقوں سے تعلقات اس کے جرائم کو روکنے میں ممکنہ ناکامی اور ایسے افراد کے کردار کا جائزہ لیا جانا چاہیے جو مبینہ طور پر اس کے نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرتے رہے۔
مہم کے ترجمان نے کہا کہ جیفری ایپسٹین، پیٹر مینڈلسن اور اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر سے متعلق ریکارڈز اور خط و کتابت، جن میں مالی معاملات اور ایپسٹین سے تعلقات کا ذکر بھی شامل ہے، مکمل شفافیت کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر اور لارڈ مینڈلسن کو فروری میں سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ دونوں نے الزامات کی تردید کی اور بعد ازاں تحقیقات مکمل ہونے تک رہا کر دیے گئے۔
برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے خلاف شکایات میں ریکارڈ اضافہ
اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط کاری کی تردید کرتے رہے ہیں، جبکہ لارڈ مینڈلسن نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ایپسٹین سے تعلق بہت زیادہ عرصے تک برقرار رکھا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی مجرمانہ سرگرمی کا علم نہیں تھا۔
متاثرین چاہتے ہیں کہ تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا برطانیہ کے بااثر افراد نے ایپسٹین کے عالمی جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو سہولت فراہم کی، اسے تحفظ دیا یا اسے روکنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مکمل عوامی انکوائری ایسی ہونی چاہیے جس کے پاس گواہوں کو طلب کرنے اور پیغامات و ای میلز تک رسائی حاصل کرنے کے اختیارات ہوں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایپسٹین کو برطانوی بااثر حلقوں تک اتنی رسائی کیسے ملی اور وہ اتنے عرصے تک جرائم سے کیسے بچتا رہا۔
متاثرین کی مہم نے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ حکومت اس معاملے میں شفافیت، احتساب اور انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔











