وادو(روشن پاکستان نیوز) یورپ کی چھوٹی ریاست لیختن اسٹائن کے شاہی خاندان نے جانشینی کے صدیوں پرانے قانون میں تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کو بھی تخت کی وارث بننے کا حق دے دیا ہے۔
قومی دن کے موقع پر ولی عہد شہزادہ ایلوئس نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ شاہی خاندان نے صرف مردوں کو ترجیح دینے کا قانون ختم کر دیا ہے جس کے تحت بادشاہ یا شہزادے کی سب سے بڑی اولاد، خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی تخت کی اگلی وارث بن سکے گی۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق شاہی خاندان کا اندرونی فیصلہ کئی دہائیوں سے زیرِ بحث تھا، جبکہ قانون میں ترمیم پر باقاعدہ کام گزشتہ سال کے آخر میں شروع کیا گیا۔ بالآخر گزشتہ روز شاہی خاندان کی دو تہائی اکثریت نے اس ترمیم کی منظوری دے دی۔
شاہی بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی ترمیم کے بعد شاہی خاندان کی خواتین اولاد کو بھی خاندانی قوانین سے متعلق معاملات میں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں گے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں مستقبل میں سب سے بڑی اولاد، جنس سے قطع نظر، لیختن اسٹائن کی تخت نشین ہوسکے گی اور وہ شہزادی یا شہزادہ لیختن اسٹائن کہلائے گی۔
واضح رہے کہ لیختن اسٹائن کا فیصلہ یورپ کی ان شاہی ریاستوں کے طرزِ جانشینی کے مطابق ہے جہاں جنس کی بنیاد پر وارثوں میں فرق نہیں کیا جاتا تاہم موناکو سمیت بعض یورپی شاہی نظاموں میں اب بھی مرد وارثوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اپنے بیان میں شاہی خاندان نے اس فیصلے کو روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن قرار دیتے ہوئے مزید کہا ہے کہ صدیوں پرانی تاریخ میں طویل المدتی سوچ اور محتاط فیصلوں نے شاہی خاندان کو فائدہ پہنچایا ہے۔











