یار…ایک بات سمجھ نہیں آ رہی۔ پاکستان میں پہلے ہی چار صوبے ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان۔ اب پھر نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کوئی جنوبی پنجاب کی بات کرتا ہے، کوئی دوسرے علاقوں کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ آخر ہم پاکستان کو مزید کتنے حصوں میں تقسیم کریں گے؟؟؟؟ کیا نئے صوبے بنانا پاکستان کو تقسیم کرنے کے مترادف نہیں؟”
میں نے اس کی بات غور سے سنی۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف میرے دوست کا سوال نہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ یہی سوچتے ہیں۔ ہمارے ہاں لفظ “تقسیم” سنتے ہی ذہن میں خدشات پیدا ہونے لگتے ہیں، کیونکہ ہماری تاریخ میں تقسیم کے کئی تلخ باب موجود ہیں۔
میں نے کہا:
“تم ایک بنیادی فرق بھول رہے ہو۔ ملک تقسیم کرنا اور ملک کے اندر انتظامی اکائیاں بنانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔”
وہ فوراً بولا:
“لیکن صوبہ تو صوبہ ہوتا ہے۔ آج چار ہیں، کل آٹھ یا دس ہوگئے تو کیا پاکستان مزید ٹکڑوں میں تقسیم نہیں ہو جائے گا؟”
میں مسکرایا اور کہا:
“نہیں! پاکستان کا نقشہ وہی رہے گا، سرحد وہی رہے گی، قومی پرچم وہی ہوگا، آئین پاکستان کا ہوگا اور شناخت پاکستانی ہوگی۔ فرق صرف یہ ہوگا کہ حکومت اور انتظام عوام کے مزید قریب پہنچ جائیں گے۔”
میں نے اس سے پوچھا:
“ایک صوبے کا دارالحکومت اگر کسی شہری سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہو تو اسے اپنے انتظامی مسائل، سرکاری دفاتر، صحت، تعلیم اور ترقیاتی معاملات کے لیے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا؟
اور اگر انتظامی مرکز اس کے قریب آجائے تو کیا اس کی زندگی آسان نہیں ہوگی؟”
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
میں نے کہا:
“دنیا کے بڑے ممالک کو دیکھ لو۔ بھارت میں درجنوں ریاستیں اور مختلف صوبے ہیں۔ چین نے بھی اپنے وسیع رقبے کو مختلف صوبائی اور دیگر انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ روس میں تو اس سے بھی زیادہ صوبے موجود ہیں۔ اسی طرح یورپ اور امریکہ میں بھی ہم سے زیادہ انتظامی یونٹس موجود ہیں۔
کیا زیادہ انتظامی یونٹس ہونے کی وجہ سے یہ ممالک ختم ہوگئے؟ نہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اتنے بڑے ملک اور آبادی کو مؤثر انداز میں کیسے چلایا جائے۔”
میرا دوست بولا:
“لیکن پاکستان ان ممالک جتنا بڑا تو نہیں۔”
میں نے جواب دیا:
“رقبہ واحد پیمانہ نہیں۔ آبادی، شہروں کا پھیلاؤ، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوام تک حکومتی رسائی بھی اہم ہوتی ہے۔ پاکستان کی آبادی آزادی کے وقت کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ شہر پھیل چکے ہیں، ضروریات بدل چکی ہیں، لیکن ہمارے بنیادی صوبائی انتظامی ڈھانچے میں اس رفتار سے تبدیلی نہیں آئی۔”
میں نے مزید کہا:
“میری نظر میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئے صوبے کیوں بنیں؟ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اگر بنیں تو کس بنیاد پر، کس مقصد سے اور کس قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ بنیں؟”
نئے صوبے صرف سیاسی نشستیں بڑھانے، نئی وزارتیں بنانے یا کسی جماعت کو انتخابی فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جائیں تو ایسی مشق سے عوام کو شاید کچھ حاصل نہ ہو۔
لیکن
اگر مقصد بہتر حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، صحت و تعلیم کی بہتر فراہمی، مقامی ترقی اور عوام کو اپنے حکمرانوں تک آسان رسائی دینا ہو تو پھر اس بحث سے خوفزدہ ہونے کے بجائے سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔
میرا دوست کچھ مطمئن ہوا، لیکن پھر اس نے ایک اور سوال میرے سامنے رکھ دیا۔
کہنے لگا:
“چلو مان لیا کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتر حکمرانی میں مدد دے سکتی ہیں۔ لیکن مجھے ایک بات بتاؤ، جس ملک میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہ ہوں،
وہاں نئے صوبوں پر اتفاق کیسے ہوگا؟
آج حکومت ایک طرف ہے، پاکستان تحریک انصاف دوسری طرف۔ سیاسی تلخی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اتنی بڑی آئینی اور انتظامی اصلاح کیسے ممکن ہوگی؟”
میں نے کہا:
“بس! اب تم اصل مسئلے تک پہنچے ہو۔”
پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں، نئے سیاسی رویوں کی بھی ضرورت ہے۔
انتظامی نقشہ بدل دینا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے، لیکن سیاسی سوچ تبدیل کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے سے محبت کریں۔ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ شدید اختلاف کے باوجود قومی معاملات پر ایک میز پر بیٹھا جائے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور دوسری سیاسی قوتوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ کسی ایک جماعت کو مکمل طور پر سیاسی منظرنامے سے نکال کر مستقل سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
میرے دوست نے فوراً سابق وزیراعظم عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
“میں جب بھی بیرونِ ملک پاکستانیوں سے ملتا ہوں، خصوصاً تحریک انصاف کے حامیوں سے، ان میں ایک بات بہت شدت سے محسوس کرتا ہوں۔ وہ عمران خان کی رہائی اور ان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ کیا ملک میں سیاسی مفاہمت کے لیے عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہونا چاہیے؟”
میں نے کہا:
“کیوں نہیں؟ اگر ہم قومی مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو پھر بات سب سے ہونی چاہیے۔ عمران خان پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی ہیں۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے اندر بھی ہے اور بیرونِ ملک بھی۔ ان سے متعلق قانونی معاملات کا فیصلہ یقیناً قانون اور عدالتوں کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن سیاسی اختلاف کا حل بالآخر سیاسی مکالمے سے ہی نکلتا ہے۔”
میری رائے میں حکومت ہو، پاکستان تحریک انصاف ہو یا دوسری سیاسی جماعتیں، سب کو اپنے لہجوں میں نرمی پیدا کرنا ہوگی۔ تحریک انصاف کو بھی مذاکرات اور جمہوری عمل کی طرف بڑھنا ہوگا اور حکومت کو بھی سیاسی دروازے بند کرنے کے بجائے بات چیت کے امکانات پیدا کرنے چاہئیں۔
جہاں عمران خان کی رہائی کا معاملہ ہے، وہاں بھی آئین، قانون اور عدالتی عمل کا احترام بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ سیاسی مفاہمت ایسی ہونی چاہیے جو کسی فرد کے لیے قانون کو نظرانداز نہ کرے، لیکن قانون کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بننے کا تاثر بھی پیدا نہ ہونے دے۔
کیونکہ ملک مستقل سیاسی جنگ کی حالت میں نہیں چل سکتے۔
میرے دوست نے پوچھا:
“تو پھر تمہارے نزدیک نئے صوبوں سے پہلے سیاسی اتفاق ضروری ہے؟”
میں نے کہا:
“صرف نئے صوبوں کے لیے نہیں، پاکستان کے مستقبل کے لیے سیاسی اتفاق ضروری ہے۔”
نئے صوبوں جیسے بڑے فیصلے کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے منصوبے کے طور پر نہیں ہونے چاہئیں۔ اس پر پارلیمان، صوبوں، سیاسی جماعتوں، متعلقہ علاقوں اور عوام کے درمیان وسیع مشاورت ہونی چاہیے۔ آئینی طریقہ اختیار کیا جائے، وسائل کی تقسیم واضح ہو، صوبائی حدود پر اتفاق پیدا کیا جائے اور یہ ضمانت ہو کہ مقصد کسی قومیت، زبان یا علاقے کو کمزور کرنا نہیں بلکہ انتظام کو بہتر بنانا ہے۔
میرے دوست نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور مسکراتے ہوئے کہا:
“تو پھر مسئلہ صوبے چھوٹے ہونے کا نہیں، سوچ چھوٹی ہونے کا ہے؟”
میں بھی مسکرا دیا۔
“شاید یہی بات ہے۔”
اگر چھوٹے انتظامی یونٹس عوام کو حکومت کے قریب لاتے ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بناتے ہیں، پسماندہ علاقوں کو ترقی کا موقع دیتے ہیں اور حکمرانوں کو عوام کے سامنے زیادہ جوابدہ بناتے ہیں تو ہمیں صرف اس خوف سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ نقشے پر مزید لکیریں بن جائیں گی۔
نقشے پر انتظامی لکیر کھینچنے سے ملک نہیں ٹوٹتے، دلوں کے درمیان لکیریں کھینچنے سے ملک کمزور ہوتے ہیں۔
اور آج پاکستان کو شاید سب سے زیادہ انہی لکیروں کو مٹانے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان، تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں کے درمیان، مرکز اور صوبوں کے درمیان، اور سب سے بڑھ کر ریاست اور عوام کے درمیان۔
نئے صوبے پاکستان کو تقسیم کریں گے یا مضبوط؟
اس کا جواب صوبوں کی تعداد میں نہیں، ہماری نیت، آئینی طریقۂ کار، طرزِ حکمرانی اور سیاسی بلوغت میں پوشیدہ ہے۔
اگر مقصد اقتدار تقسیم کرنا نہیں بلکہ اختیار عوام تک پہنچانا ہو، اگر سیاست انتقام کے بجائے مکالمے کی طرف آئے، اگر عمران خان سمیت تمام اہم سیاسی قوتوں کے ساتھ آئینی و جمہوری دائرے میں گفتگو کے دروازے کھلے ہوں، اور اگر قومی مفاد جماعتی مفاد سے بڑا ہوجائے، تو نئے انتظامی یونٹس پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن سکتے ہیں۔
میں نے دوست سے آخری بات کہی:
“پاکستان کو چھوٹے صوبوں سے خطرہ نہیں، چھوٹی سوچ، سیاسی انتقام، عدم برداشت اور ناانصافی سے خطرہ ہے۔ صوبے زیادہ ہوں یا کم، پاکستان تب مضبوط ہوگا جب پاکستانی ایک دوسرے کو سننا، برداشت کرنا اور ساتھ لے کر چلنا سیکھیں گے۔”
دوست خاموش ہوگیا۔
اور کبھی کبھی دوست کی یہی خاموشی بتاتی ہے کہ سوال ختم نہیں ہوا۔۔۔
سوچ شروع ہوئی ہے۔
تحریر/ ندیم طاہر
#nadeemtahir











