تہران(روشن پاکستان نیوز): ایران نے امریکا سے معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکا کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد تہران نے حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں۔
تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے کہا امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کےتحت وعدوں کی خلاف ورزی کی، ایران نے بھی تمام وعدوں پر عمل درآمد روک دیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا ’’امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ان پر عمل درآمد بھی معطل کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے کہا ’’ہم نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں، ہم ان پر عمل نہیں کر رہے اور اس وقت ملک کے دفاع میں مصروف ہیں۔‘‘
ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک ایسے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے، جس کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام عمان اور خطے کے دیگر ممالک سے مشاورت کے ذریعے کیا جانا تھا۔
خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ’’مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 میں واضح طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام عمان اور خطے کے ممالک سے مشاورت کے ساتھ کیا جائے گا۔ تاہم اس معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکا اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘‘
دریں اثنا، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی بار بار خلاف ورزی کی، ثابت ہو گیا ٹرمپ کے دستخط کی کوئی حیثیت نہیں، امریکا نے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کر کے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔











