جمعه,  28  اگست 2026ء
شوہران ہوشیار باش /بیگمات داخل جنت
شوہران ہوشیار باش /بیگمات داخل جنت

تحریر: سید شہریار احمد
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

شوہران ہوشیار باش /بیگمات داخل جنت

کچھ دنوں سے آرٹیکل لکھنے کا من نہیں تھا ،میرے ایک مستقل قاری ہیں انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ کیا وجہ ہے کچھ دنوں سے کچھ مضامین نہیں آ رہے؟
میرا کہنا تھا کہ کوئی ایسی بات نہیں مل رہی جو دل کو چھو لے اور جس سے میرے ذہن کی روانی پیدا ہو۔
پھر یوں ہوا کہ آج بات ہو رہی تھی ایک دوست کے ساتھ جن کا کہنا تھا کہ بیویاں، اکثریت میں جہنمی ہیں۔
اس کی دلیل وہ مختلف مفتیوں کی ریلز کے حوالے سے دے رہے تھا، جن میں مفتیان کرام نے بتایا تھا کہ اگر کسی عورت نے اپنے شوہر کا دل دکھایا اور وہ ساری رات عبادت میں مشغول رہی تو وہ جہنم میں ہی جائے گی ۔
گفتگو کے دوران ان بیویوں کے حوالے سے ہمارے علماء دین کے دیے گئے بیانات میں سے کچھ انہوں نے اپنے موبائل فون سے ویڈیوز نکال کر مجھے سنوائے جس میں مذکورہ اصحاب ، احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے ثابت کر رہے تھے کہ اگر شوہر انہیں کسی کام سے روکے اور وہ اس کی نافرمانی کرے تو ایسی عورت براہ راست جہنم میں جائے گے ۔
بہرحال ایسی ریلیں آپ لوگ بھی دیکھتے رہتے ہیں اور آپ لوگ بھی مطمئن ہو جاتے ہیں کہ چلو اگر آپ کی بیوی نے آپ کو تنگ کر رکھا ہے، آپ کی نافرمانی کی ہے، ماں باپ کو، اپنے بہن بہنوئی کو اہمیت دی ہے آپ کے آگے،تو وہ روزقیامت اس کی سزا بھگتے گی ۔
یہ سب دیکھ کر بہت سے دکھی اور مظلوم خاوند تھوڑا مطمئن ہو جایا کرتے ہیں،
لیکن میرا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ روئیے زمین پر جتنی بیویاں گزر چکی ہیں ،
سپرد خاک ہو چکی ہیں
یا جو اپنے خاوندوں کے ساتھ فلوقت بسر کر رہی ہیں
یا آنے والے وقتوں میں شوہروں والی ہوں گی
وہ سب بغیر حساب کتاب کے سیدھا جنت میں بھیج دی جائیں گی۔
آپ میری اس بات سے یقینا چونکے ہوں گے اور میرے اس دعوے کی سچائی پر شک کریں گے
لیکن میرے پاس اس کی ایک بہت مناسب اور بڑی معقول دلیل ہے جو کہ میں ذرا بعد میں بیان کرتا ہوں۔
ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ شوہر چاہے کسی بھی نسل سے ہو، کسی مذہب، کسی خطے اور کسی ملک کا رہنے والا ہو وہ بیوی کے عذاب سے بچ نہیں پاتا۔
اپنے وقار کی بحالی، عزت نفس کی تلاش میں چاہے جتنے بھی اوپائے کر لے لیکن اس کی بیوی اس کے ساتھ آسیب کی طرح چمٹی رہتی ہے ،پھر اس سے چھٹکارا، شوہر کو دنیا کو الوداع کہنے سے ہی ملتا ہے ۔
دنیا میں کون سا ایسا شوہر ہے جو اپنی بیوی سے حقیقی خوشی حاصل کر پایا ہے؟
اپنی عورت سے ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے دنیا میں کوئی فلاسفر، کوئی عالم دین، کوئی فرزانہ کسی قسم کا کوئی فارمولا طے نہیں کرپایا ۔
کبھی یہ طے ہوا کہ عورت دولت مند شخص کے ساتھ اچھا گزارا کر لیتی ہے ،
کبھی ہمیں یہ بتایا گیا کہ جسمانی طور پر توانا شخص اپنی بیوی کو زیادہ خوش رکھ سکتا ہے،
اور کبھی لوگوں میں یہ تصور ذہن نشین کرا دیا گیا کہ عورت بزلہ سنج اور خوش اخلاق مرد کے ساتھ زیادہ ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ گزارا کرلیتی ہے
اور کئی ادوار میں تو مردوں نے یہ بھی طے کر لیا تھا کہ بیویاں تو صرف سلیبرٹیز اور مشہور لوگوں کے ساتھ ہی رہ سکتی ہیں۔
اگر ایسا ہے تو پھر کیوں یہ سارے فارمولے بے جان اور مردہ ثابت ہوئے؟
ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی درجہ بندی میں ٹاپ کے باکسرز، ریسلرز کی بیویاں ان سے لڑ جھگڑ کر علیحدہ ہوئیں؟
دنیا کے صف اول کے فلم سٹار، کامیاب ترین فلمیں دینے کے بعد ناکام ترین ازدواجی زندگی گزارنے پر مجبور تھے
اور پھر سیاست دان اور دانشوروں کی بیویوں نے بھی انہیں اذیت میں مبتلا رکھا۔
دنیا کے 10 امیر ترین مردوں میں سے سات کی بیویاں ان سے رخصت ہو چکی ہیں۔
سب سے بڑی مثال ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہے جو اپنی بیوی سے تین دن سے زیادہ ناراض نہ رہا کرتے تھے کیونکہ اسلام میں تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھنے کی ممانعت ہے۔
قران میں اللہ نے فرمایا کہ نبی کی بیویو انہیں تنگ مت کرو ممکن ہے کہ ہم انہیں تم سے بہتر ازواج دے دیں ۔
او بھائی اگر پیغمبر بھی اپنی بیویوں سے محفوظ نہ رہے تو آپ اور میں کس کھیت کی مولی ہیں۔
میں نے ایسے شوہر دیکھے ہیں جو بیویوں کے چڑچڑا پن، بدکلامی کی وجہ سے اپنا کاروبار تباہ کروا بیٹھے ہیں،
اورکئی اپنی بیگموں کی لڑائی کی عادت، طعنے اور بدتمیزیوں سے تنگ آ کر خود کشی کر چکے ہیں

لیکن میرا پھر بھی یہی ماننا ہے کہ ازل سے لے کر ابد تک جتنی بیویاں تھیں، ہیں اور جو ہوں گی، وہ سب بغیر کسی حساب کتاب کے بہشت میں ہوں گی۔
اپنے موقف کی تائید میں، میں صرف ایک ہی مثال دوں گا لیکن اس سے پہلے دو مثالیں میں اپنے دوستوں کی دیتا جاؤں۔
میں جب وکالت کے تیسرے سال میں تھا تو میرے ہم جماعت نے شادی کا فیصلہ کیا۔ میرے ہزار بار منع کرنے کے باوجود بھی اس نے شادی کے بندھن میں خود کو باندھ لیا۔ میں نے اسے بتایا کہ شادی شدہ زندگی میں جن طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ طوفان صرف مرد ہی جھیلتا ہے لیکن جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ،جن لوگوں نے زندگی میں دکھ سہنے ہوں انہیں ایسی باتوں کا اثر کہاں ہوتا ہے ؟
یہ دوست شادی کے پانچ ماہ بعد ہی اپنی قوت برداشت، اپنا فوکس، اپنی نوکری سب کچھ کھونے جا رہا تھا۔
یہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمت کر رہا تھا اور ساتھ ہی وکالت بھی۔
بیگم اس کی اوکاڑہ میں تھی، ہر ماہ بیگم کہتی میں نے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے مجھے لے کے جائیں۔
یہ اس کو کہتا کہ امی کے ساتھ چلی جاؤ، بہن کے ساتھ چلی جاؤ ،ویسے بھی تو شاپنگ کرنے جاتی ہو، فیملی کے گھروں میں جاتی ہو، خاندان والوں سے ملتی ہو تو ڈاکٹر کے پاس بھی چلی جاؤ لیکن وہ بضد رہتی کہ نہیں آپ اسلام آباد سے آئیں اور مجھے لے کے جائیں۔
اس کو کبھی چھٹی ملتی کبھی نہ ملتی لیکن اسے آٹھ نو ماہ ہر مہینے دو بار اوکاڑہ جا کر اپنی بیوی کا ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا پڑتا تھا،
دوسرا نقصان یہ اٹھانا پڑا کہ یہ ایک لائق نوجوان تیسرے سال وکالت کے امتحان میں کافی کم نمبر لے سکا ۔
دوسری مثال اس دوست کی جو مجھ سے ڈیڑھ سال بعد ملا تو اس نے مجھ سے معذرت کی، کہنے لگا شہریار تمہیں یاد ہے جب ہم ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے تو تم اپنی بیگم سے بحث کر رہے تھے اور لڑ رہے تھے۔ کھانا کھاتے ہوئے ہوٹل میں تمہاری آواز لوگوں کو سنائی دے رہی تھی ۔ ہم سے کھانا بھی نہ کھایا گیا۔
اس دن میرے دل پر بہت برا اثر ہوا تھا میں جو تمہیں ایک سمجھدار ،پڑھا لکھا انسان سمجھتا تھا اس روز تمہارا امیج میری نظر میں خراب ہو گیا لیکن آج ڈیڑھ سال کے بعد میں تم سے معافی مانگنے آیا ہوں کہ میں نے تمہارے بارے میں غلط سوچا،
یہ جو بیوی ہے نا یہ تو خدا کا عذاب ہے ،
کہنے لگا میری بیوی شادی کے پہلے دو سال تک ٹھیک رہی اب تیسرے سال اس نے میرے زندگی حرام کر دی ہے۔
ہر وقت مطالبات، ہر وقت طعنے، ہر وقت ناشکری، ہر وقت گلہ شکوہ۔
میں نے اسے تسلی دی اور بتایا دیکھو بھائی جس طرح آندھی ہے ،طوفان ہے ،سیلاب ہیں، زلزلے ہیں، یہ سب قدرتی آفات ہیں۔

بیوی بھی قدرتی آفات میں سے ہی ایک آفت ہے،
اگر تم یہ حقیقت سمجھ لو گے تو تمہارے غم تو کم نہ ہوں گے لیکن غم برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔
میں تمہیں بھی بتا دوں کہ تمہاری بیوی تمہیں بہشت میں ہی ملے گی ۔

میں نے کہا کیا تم نے ایسے مجذوب دیکھے ہیں جن کی داڑھی بڑھی ہوئی ہو، بال بے ترتیب ہوں،کپڑے پھٹے ہوئے ہوں اور وہ سڑکوں پر یا کسی فٹ پاتھ پر ملتے ہیں۔
اب مجھے بتاؤ اگر وہ کسی کو پتھر مارتےہیں، کسی کو کچھ برا بھلا کہتے ہیں تو کیا وہ قابل گرفت ہیں ؟
کیاانہیں عدالت کوئی سزا دے سکتی ہے؟
نہیں دے سکتی۔ اس لیے کہ ان کا دماغ کام نہیں کرتا۔
اسی طرح اللہ بھی ایسے لوگوں کو جو ذہنی طور پر معذور ہیں ان سے کوئی حساب کتاب نہ کرے گا روز قیامت اور وہ لوگ سیدھا جنت میں جائیں گے۔
وہ اپنے اعمال کے جواب دہ نہ ہوں گے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
اب چونکہ خدا نے عورتوں کو بھی دماغ کی نعمت سے محروم رکھا ہےلہذا وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں کیونکہ ان کو اپنے دماغ پر کنٹرول حاصل نہیں ہے ۔ وہ کچھ بھی کر لیں وہ قابل سرزش نہیں۔
اس لیے میرا ماننا ہے کہ بیویوں کا بھی روز محشر کوئی حساب کتاب نہ ہوگا ۔ مفتی بھلا جو مرضی کہتے رہیں
اب تم نے میرا یہ آرٹیکل پڑھ کر گھبرانا نہیں ہے

مزید خبریں