پیر,  03  اگست 2026ء
ڈھٹائی۔۔ ہمارا قومی کھیل

آج میڈیا ٹاون سے اسلام آباد آتے ہوئے بس میں کمال رش تھا۔۔ جب کنڈیکٹر نے کرایہ مانگا تو مجھے سٹیج ڈرامے میں نسیم وکی کا ڈائیلاگ یاد آ گیا کہ ہم دوبئی میں ایک کمرے میں کئی دوست سوتے ہیں بستر اوپر نیچے ہوتے ہیں تو نیچے والا جو خواب دیکھتا ہے وہی اوپر والے کو بھی آتا ہے۔۔ میں نے کنڈیکٹر سے کہا کہ بھائی تھوڑی مہلت دے دو کیونکہ اس وقت ڈر یہ لگ رہا ہے کہ پیسے نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو کہیں ہاتھ ساتھ والے کی جیب میں نہ گھس جائے۔۔ کنڈیکٹر بھی ہنس پڑا۔۔ میں نے ساتھ کھڑی ہوئی سواریوں سے بھی کہا کہ دیکھنا بھائیو، کرایہ نکالتے ہوئے اپنی جیب میں ہی ہاتھ ڈالنا۔۔

جوں ہی جگہ بنتی گئی ہم لوگ دروازے سے ہٹ کر بس کے پچھلے حصے میں چلے گئے۔۔ کچھ دیر کے بعد پیچھے کھڑے ہوئے صاحب نے جو چھینک ماری تو اے سی بس میں اچانک پوری کمر میں ٹھنڈک کا احساس اتر گیا۔۔ چھینک اتنی بھرپور تھی کہ میری پوری کمر میں نمی کا احساس ہوا۔۔ دل میں تو آئی کہ گھوم کر ایک لگاؤں، پھر خیال آیا کہ وہ بھی ایک یا دو لگا سکتا ہے اس لیے میں نے اسے طنزاً کہا۔۔ بہت مہربانی۔۔
اس نے بھی کمال مہربانی دکھائی اور ہنستے ہوئے مونچھوں پر رہ جانے والے بلغمی تھوک کو ہاتھ سے صاف کیا اور کہا کوئی بات نہیں۔۔ اس کے ساتھ مزید دو تین دوست بھی تھے۔ انہوں نے اسے اس کے کندھے پر رکھے ہوئے کپڑے کو استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔۔ ایک نے مذاق کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کندھے پہ جو کپڑا رکھا ہوا ہے یہ کس کام کے لیے ہے؟۔ اس نے مزید اطمینان سے کہا کہ یہ کسی کام کے لیے رکھا ہوا ہے۔
میں نے اسے سنجیدگی سے کہا کہ بھائی اس کپڑے کو سنبھال کر رکھنا، اسے بارش اور دھوپ سے بھی بچانا مگر اب چھینک آئے یا کھانسی، اپنے بازو میں اپنے منہ کو گھسا لینا تاکہ اس کا ثواب آپ کو ہی ملے۔۔ اس نے بنا کسی شرمندگی کے کہا جب اگلی مرتبہ چھینک آئی تو دیکھی جائے گی۔

یہ تو صرف ایک واقعہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈھٹائی ہمارا قومی کھیل بن چکا ہے۔ کوئی سڑک پر چلتے ہوئے کسی فٹ پاتھ پر آپ کے پاوں پر اپنا پیر رکھ دے اور آپ اسے غصے سے دیکھیں تو وہ سوری کرنے کے بجائے ہنستے ہوئے آگے چل پڑے گا۔ آپ بینک کی قطار میں لگے ہوں مگر ایک شخص تیزی سے چلتا ہوا آئے گا اور سیدھا کاونٹر پر جا کر اپنا چیک آگے بڑھائے گا۔ آپ اگر آواز لگا کر اسے قطار میں لگے ہوئے لوگوں کی موجودگی کا احساس دلائیں گے تو وہ غصے سے چیک اٹھا کر باہر نکل جائے گا۔

آپ کسی میڈیکل سٹور کے باہر دوائی خرید کر باہر نکلیں تو پیچھے ایک گاڑی کھڑی دکھائی دے، گارڈ آپ کو بتائے گا کہ یہ صاحب زبردستی گاڑی یہاں کھڑی کر کے اندر گئے ہیں اور بلایا ہے تو کہتے ہیں میں اپنی دوائیاں لے کر باہر آتا ہوں۔ آپ اندر سے اس کو زبردستی باہر لے کر آئیں تو وہ آپ کو ہی غصے سے دیکھتے ہوئے کہے گا تھوڑا صبر نہیں ہو سکتا تھا؟۔۔ آپ اس کی اس ڈھٹائی پر حیران ہی ہو سکیں گے۔
ابھی شرجیل میمن کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا وہ کہہ رہے تھے آزاد کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن نے دھاندلی کی ہے، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کی آج کی پریس کانفرنس میں غرور اور تکبر تھا پشیمانی نہیں تھی۔۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور نواز شریف اپنی اپنی نشستیں نہیں جیتے۔۔ مگر ڈھٹائی سے ان انتخابات کو درست قرار دیتے ہیں۔ جناب، اگر دیکھیں تو یہ آپ کی ڈھٹائی ہے کیونکہ شہباز شریف کو اگر آپ کی جماعت ووٹ نہ دیتی تو وہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ اگر 2024کے انتخابات درست نہیں تھے تو اس میں آپ بھی کامیاب ہوئے تھے، اسے درست کیونکر مانا جائے۔ اگر فارم 47کو پیمانہ بنایا جائے تو اس میں تو جن پردہ نشینوں کے نام سامنے آتے ہیں ان میں پیپلز پارٹی بھی ہے۔

کیا کراچی میں مئیر بننے والے مرتضیٰ وہاب مئیر بن سکتے تھے؟ کیا اسی کرپٹ سسٹم کے تحت آصف علی زرداری صدر مملکت، یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ، سردار سلیم حیدر اور فیصل کریم کنڈی گورنر کے عہدے لے کر نہیں بیٹھے؟۔ کیا روبینہ خالد اسی وزیر اعظم کے مشورے پر چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں بنیں؟۔ اگر ان کی تقرریاں درست ہیں تو پھر یہ فارم 47کا طعنہ نہیں بنتا۔
یہاں پر محسن نقوی کہتے ہیں کہ یہ نظام خراب ہے، آج نہیں تو کل یہاں کاکروچ باہر نکلیں گے، ان کو لیپ ٹاپ نہیں چاہیئں۔۔ یا اللہ یہ کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے؟ یہ کیسی ڈھٹائی دیکھنے کو مل رہی ہے؟۔ دیکھئیے ناں۔ یہ سسٹم ہی تھا جس میں فیصل واوڈا، محسن نقوی اور انوار الحق کاکڑ آزاد حیثیت میں سینیٹر بن جاتے ہیں اور ان کے راستے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ یہ جو مانگیں مل جاتا ہے۔ محسن نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا تو سسٹم ٹھیک تھا؟۔ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنایا تو بھی سسٹم زبردست تھا۔ پھر انہیں اسی بوسیدہ نظام والوں نے سینیٹر اور سینیٹر کے بعد وزیر داخلہ اور وزیر داخلہ بھی لا محدود اختیارات والا بنایا تب بھی یہ سسٹم ٹھیک تھا لیکن اچانک ایک حسین صبح انہیں احساس ہوا کہ یہ سسٹم درست نہیں ہے اور جمہوریت صرف پارلیمانی جمہوریت نہیں ہے بلکہ جمہوریت میں اور بھی بہت سے نظام ہیں۔۔ اس لیے اسے تبدیل کریں ورنہ پورے ملک میں کاکروچ پھیلنا شروع ہو جائیں گے۔

یا الہٰی۔۔ کوئی کرم فرما دے، یہاں جب بھی کوئی نیا نظام لانا ہو تو پچھلے نظام کو کرپٹ ثابت کیا جاتا ہے، جیسے قیدی کو لانے کے لیے نواز شریف اور زرداری کو دنیا کا کرپٹ ترین لیڈر ثابت کیا جاتا ہے اور جب وہ قیدی کا نظام بھی نہیں چلتا تو وہ کرپٹ ہو کر جیل پہنچ جاتا ہے۔۔ جو پہلے جیل میں تھے وہ باہر آ جاتے ہیں، اب اگر یہ نظام تبدیل کرنا ہے تو سب سے پہلے تو انہیں تبدیل کیا جائے جو اس سسٹم سے جڑے رہ کر اس سے فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں۔

ایک وہ ہیں جو کھانستے، چھینکتے ہیں تو اس کا ثواب سب تک پہنچا کر مسکرا دیتے ہیں، ایک وہ تھے جو ہر بات کر کے مکر جاتے تھے اور کہتے تھے اچھے لیڈر یوٹرن لیتے ہیں اور انہیں ماننے والے ڈھٹائی کے ساتھ لیڈر کی ڈھٹائی پہ کہتے کہ ڈٹ کے کھڑا ہے اور ایک یہ ہیں جو اس نظام کو سیڑھی بنا کر اوپر تک پہنچے اور اب اس سیڑھی کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں مگر یہ نہیں بتا رہے کہ یہ سیڑھی نہیں تو پھر اوپر آنے یا نیچے جانے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟.

شہریاریاں ۔۔۔ شہریار خان
تین اگست2026

مزید خبریں