اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) عالمی منڈی میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مہنگائی اور شرح سود سے متعلق خدشات میں وقتی کمی دیکھنے میں آئی۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,065.76 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.9 فیصد اضافے کے بعد 4,054 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فوری نئے حملوں سے گریز اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوششوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی آئی اور سونے کی قیمتوں کو سہارا ملا۔
ادھر جاپانی ین کی حمایت کے لیے حکومتی مداخلت کے بعد امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا، جس سے دیگر ممالک کے خریداروں کے لیے سونا نسبتاً سستا ہوگیا۔
تجزیہ کار ٹِم واٹرر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہفتے کے آغاز پر سونے کی قیمتوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی منڈی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث اس اضافے کی رفتار محدود رہی۔
گل پلازہ متاثرین کے لیے مفت ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس متعارف، کاروبار کی بحالی کا نیا اقدام
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کے بعض حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر شرح سود میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو مہنگائی 2 فیصد کے ہدف سے اوپر برقرار رہ سکتی ہے۔
سرمایہ کار اس ہفتے امریکا سے جاری ہونے والے اہم معاشی اعداد و شمار، جن میں روزگار، بے روزگاری کے دعوے، اے ڈی پی ایمپلائمنٹ رپورٹ اور نان فارم پے رولز شامل ہیں، پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ اعداد و شمار آئندہ شرح سود سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.9 فیصد، پلاٹینم 0.5 فیصد جبکہ پیلیڈیم 1.7 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔











